اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اسرائیلی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گی اور میدان میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی۔ انہوں نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے سے متعلق کسی بھی منصوبے کو مسترد کردیا۔
شیخ نعیم قاسم نے موجودہ صورتحال کو اسرائیل کی کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ جنگ کی خواہاں نہیں، تاہم مسلسل اسرائیلی حملوں کے باوجود اپنے دفاع کے حق سے دستبردار نہیں ہوگی۔
انہوں نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ لبنان کو براہِ راست مذاکرات کے بجائے بالواسطہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق امریکا اسرائیل اور لبنان کے درمیان غیر جانب دار ثالث نہیں، کیونکہ واشنگٹن اسرائیل کے مؤقف کے قریب ہے۔
حزب اللہ کے سربراہ نے 27 نومبر 2024 کے معاہدے پر عمل درآمد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 کے فریم ورک میں طے پایا تھا۔ ان کے مطابق معاہدے کے تحت جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا انخلا اور علاقے میں لبنانی فوج کی تعیناتی ضروری ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے حزب اللہ کے ہتھیاروں سے متعلق مطالبات کو بھی مسترد کردیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا معاملہ اسرائیل کو لبنان پر حملے جاری رکھنے کے لیے مستقل جواز فراہم کرسکتا ہے۔
انہوں نے مجوزہ فریم ورک معاہدے، آزمائشی علاقوں اور تصدیقی کمیٹی سے متعلق انتظامات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات لبنان کی خودمختاری اور حقوق کے خلاف ہیں۔
حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے واضح کیا کہ ان کی جماعت صرف 27 نومبر 2024 کے معاہدے پر عمل درآمد کو قبول کرے گی اور کسی اضافی رعایت یا نئے فارمولے کو تسلیم نہیں کرے گی۔
انہوں نے اپنے حامیوں کو یقین دلایا کہ حزب اللہ سماجی امداد، تعمیر نو اور بحالی کے کام جاری رکھے گی۔ شیخ نعیم قاسم نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ حزب اللہ میدان میں موجود رہے گی اور ہتھیار نہیں ڈالے گی۔
آپ کا تبصرہ