اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، یورپی یونین نے غزہ کے حوالے سے اسرائیلی وزیرِ داخلی سلامتی ایتامار بن گویر کے حالیہ بیانات کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف یورپی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کے ترجمان انور العنونی نے برسلز میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ بن گویر کی جانب سے غزہ کے بارے میں دیے گئے بیانات کی واضح اور سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کو اپنے وزیر کی جانب سے اس طرح کی اشتعال انگیز اور انتہائی سخت زبان کے استعمال کو روکنا چاہیے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے بیانات ناقابلِ قبول ہیں اور انہیں بغیر کسی کارروائی کے نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
یورپی یونین کے ترجمان نے بتایا کہ یورپی کونسل اس وقت بن گویر کا نام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کے خلاف عالمی پابندیوں کے نظام کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز کا جائزہ لے رہی ہے۔
یہ پیش رفت بن گویر کے ان متنازع بیانات کے بعد سامنے آئی ہے جن میں انہوں نے غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے مزید کارروائیوں اور مبینہ ’’ٹارگٹڈ قتل‘‘ کی حمایت کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اگست 2026 کے وسط میں بن گویر نے مطالبہ کیا تھا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں ایسی کارروائیاں کرے جن کے نتیجے میں ہر رات درجنوں افراد مارے جائیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کارروائیوں کے اہداف صرف ان افراد تک محدود نہیں ہونے چاہییں جو فوری خطرہ سمجھے جاتے ہیں، بلکہ غزہ کے دیگر فلسطینیوں کے حوالے سے بھی انتہائی اشتعال انگیز اور انسانیت سوز الفاظ استعمال کیے تھے۔
یورپی یونین کی جانب سے بن گویر کے خلاف ممکنہ پابندیوں کا جائزہ ایسے وقت میں لیا جا رہا ہے جب غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور انسانی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ