16 اگست 2026 - 01:32
غصبِ فلسطین [نکبت] کی تاریخ میں پہلی بار مقبوضہ سرزمین سے یہودی آبادکاروں کی بےمثال الٹی نقل مکانی

صہیونی ریاست، جو ہمیشہ خود کو دنیا بھر کے یہودیوں کا "پرامن اور ترقی یافتہ مسکن" قرار دیتی تھی، اب ایک غیرمعمولی اور خطرناک رجحان کا سامنا کر رہی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ فائنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، گذشتہ تین سالوں میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ (150000) صہیونی مقبوضہ فلسطینی سرزمینوں کو چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

یہ تعداد صرف خالص نقل مکانی (Net Migration) کے تناظر میں اہمیت رکھتی ہے؛ یعنی بھاگنے والے صہیونی آبادکاروں کی تعداد ان آبادکاروں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے، جو مقبوضہ فلسطین میں واپس آئے ہیں۔ 2023 اور 2024 کے دوران، اس ریاست کی تاریخ میں پہلی بار خالص ہجرت منفی ہو گئی، اور توقع ہے کہ یہ سلسلہ 2025 میں بھی جاری رہے گا، جس سے یہ تیسرا متواتر سال ہوگا جب آبادی میں کمی واقع ہوگی۔

نقل مکانی کی رفتار: وجوہات اور آغاز

نقل مکانی کی یہ لہر 2023 کے اوائل میں اس وقت شروع ہوئی، جب بنیامین نیتن یاہو کی کابینہ کے متنازعہ عدالتی اصلاحات کے منصوبے نے مقبوضہ ملک میں اندرونی بحران کو ہوا دی۔ تاہم، 7 اکتوبر 2023 کو طوفان الاقصیٰ آپریشن اور اس کے بعد غزہ میں شروع ہونے والی جنگ، جو پورے خطے میں کئی جہتوں پر جنگ کی شکل اختیار کر گئی، اس رجحان کو تیزتر کر دیا۔

عبرانی یونیورسٹی کے پروفیسر سرجیو ڈیلا پرگولا (Sergio Della Pergola) نے اس صورتحال کو "مکمل طور پر عدیم المثال" قرار دیا اور زور دیا کہ پچھلی ایک صدی میں یہ پہلا موقع ہے جب صہیونی ریاست متواتر کئی سالوں میں الٹی نقل مکانی کا شکار ہو رہی ہے۔

سماجی تبدیلی: تابو ٹوٹ گیا

ماضی میں مقبوضہ علاقوں سے باہر نقل مکانی کو ایک سماجی "تابو (Taboo یا شجرہ ممنوعہ)" سمجھا جاتا تھا، لیکن اب یہ رویہ یکسر بدل چکا ہے۔ نقل مکانی کو اب ـ خاص طور پر سیکولر اور لبرل طبقوں میں، ـ ایک قابل قبول آپشن کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے، جو محسوس کرتے ہیں کہ غاصب ریاست تیزی سے دائیں بازو کی انتہا پسندانہ سیاست کی طرف بڑھ گئی ہے۔

تل ابیب یونیورسٹی کے محققین کے مطابق، 2023-2024 میں تقریباً 100,000 افراد ہجرت کر گئے، جبکہ تخمینوں کے مطابق 2025 میں مزید 45 سے 50 ہزار افراد اس راستے کا انتخاب کیا۔

معاشی پہلو: ناقابل برداشت مہنگائی

صرف جنگی اور سیکیورٹی وجوہات ہی آبادکاروں کی الٹی نقل مکانی کا باعث نہیں ہیں۔ معاشی مجبوریاں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ غاصب ریاست کئی سالوں سے بے مثال مہنگائی اور زندگی کی بڑھتی ہوئی لاگت کا شکار ہے۔ خاص طور پر رہائش کا بحران انتہائی سنگین ہے: تل ابیب کے قریب 100 مربع میٹر کے ایک اپارٹمنٹ کی قیمت تقریباً دس لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

امریکہ نقل مکانی کرنے والے ایک اسرائیلی پراپرٹی ڈیلر املاک یوناتان کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر امریکہ میں صرف ایک سال کے عرصے میں ایسا گھر خرید لیا، جس کی لاگت وہ مقبوضہ علاقوں میں کبھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔

چیدہ افراد کا فرار: معیشت اور سیکیورٹی کے لئے خطرہ

ماہرین کے مطابق، سب سے پریشان کن پہلو ہجرت کرنے والوں کی تعداد نہیں، بلکہ ان کی سماجی حیثیت ہے: ویلتھ ٹیکس کے مطالعے کے مطابق، 2023-2024 میں امیر اور اعلیٰ تعلیم یافتہ صہیونیوں (خاص طور پر ہائی ٹیک اور صحت کے شعبوں) کی ہجرت کی شرح، 2017 کے مقابلے میں دو گنا بڑھ گئی ہے؛ جس سے، اگلے پانچ سالوں میں، غاصب ریاست کو سالانہ محصولات میں 3.5 بلین ڈالر تک کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

ہائی ٹیک سیکٹر، جو جی ڈی پی کا پانچواں حصہ اور برآمدات کا نصف حصہ تشکیل دیتا ہے، شدت سے متاثر ہو رہا ہے۔

نیز فوج (جو رضاکارانہ یا لازمی خدمت پر منحصر ہے) کو اعلیٰ تعلیم یافتہ عناصر کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ریاستی ردعمل اور مستقبل کے سوالات

صہیونی ریاست نے اس بحران کو روکنے کے لئے بیرون ملک کمائی گئی بعض آمدنیوں پر ٹیکس چھوٹ جیسے اقدامات اٹھائے ہیں، لیکن نقل مکانی کرنے والوں پر ان اقدامات کا کوئی ٹھوس اثر نہیں پڑ سکا ہے۔

یوناتان کہتا ہے: "امریکہ میں زندگی آسان نہیں تھی، لیکن یہاں تحفظ زیادہ ہے اور فضائی و میزائل حملوں سے بچاؤ کے لئے مسلسل پناہ گاہوں کی طرف بھاگنے کی ضرورت نہیں ہے، چنانچہ میرے خاندان کے معیارِ زندگی میں بہت بڑا فرق آیا ہے۔"

دوسری جانب، واشنگٹن پوسٹ کے اعدادوشمار کے مطابق، اس وقت تقریباً 2 لاکھ صہیونی صرف یورپ میں مقیم ہیں۔ ان میں سے بہت سوں نے جرمنی، پولینڈ، اسپین، اور پرتگال جیسے ممالک کے دوسرے پاسپورٹ حاصل کر لئے ہیں۔ لزبن اور برلن جیسے شہروں میں صہیونی تارکینِ وطن کی بڑی اور متحرک کمیونٹیز موجود ہیں، جو جائیداد اور روزگار کے بارے میں معلومات کے تبادلے کے لئے فیس بک گروپس بھی چلاتی ہیں۔

نتیجہ

یہ ڈیٹا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ صہیونی ریاست، جو کبھی "محفوظ پناہ گاہ" ہونے کا نعرہ لگاتی تھی، آج سیاسی، معاشی، اور سماجی عوامل کے ملاپ سے ایک ایسے بحران کا شکار ہے جس کا کوئی فوری حل نظر نہیں آ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ سلسلہ نہ رکا تو مزید صہیونیوں کو بھی اپنے آبائی ممالک میں واپس جانے کی رغبت ملے گی اور آنے والے سالوں میں اس ریاست کی ساختی کمزوری مزید واضح ہو جائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha