بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان، اسماعیل بقائی نے آج (جمعہ) 9 نومبر 2026ع کو جوہری ہتھیاروں کے موضوع پر فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے متضاد موقف پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا:
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ "خوفناک ہونا" اور "طاقتور ہونا" "آزادی اور خودمختاری" کے لوازمات ہیں۔ ان کے فارمولے کے مطابق جوہری ہتھیاروں کا کردار ناگزیر ہے۔
انھوں نے کہا: فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک میزائل کے تجربے کے موقع پر کہتے ہیں: "آزاد ہونے کے لئے خوفناک ہونا ضروری ہے؛ اور خوفناک ہونے کے لئے طاقتور ہونا ضروری ہے۔" لیکن یہی ایمانوئل میکرون ایران کے بارے میں، جو بنیادی طور پر جوہری ہتھیاروں بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا، کہتے ہیں: "ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں؛ نہ آج، نہ پانچ سال بعد، نہ دس سال بعد؛ کبھی بھی نہیں۔"
بقائی نے مزید کہا: سوال یہ نہیں کہ فرانس کے پاس جوہری ڈیٹرنس کیوں ہے؛ سوال یہ ہے کہ وہ منطق جو فرانس کے لئے سلامتی اور آزادی کی ضمانت ہے، ایران کے بارے میں، حتیٰ کہ پرامن اور بین الاقوامی نگرانی کے تحت کی جوہری صلاحیت، کے بارے میں یہی منطق اچانک "خطرہ" کیوں بن جاتی ہے؟

اس سینئر ایرانی سفارت کار نے اس بارے میں ایکس پر لکھا: تلخ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب کے لئے امن نہیں چاہتے؛ وہ خوفناک ہونے کی اجارہ داری اور ڈرانے کی قانونی حیثیت اپنے لئے چاہتے ہیں۔ ان کے خیال میں، خود انہیں طاقتور اور جوہری اور یقیناً خوفناک رہنا چاہئے اور دوسروں کو ـ حتیٰ کہ ان ممالک کو بھی جو صرف پرامن جوہری توانائی کے خواہاں ہیں ـ "جوہری خطرے" کی جھوٹی تصویر کشیوں کے ذریعے محدود کیا جانا چاہئے۔
بقائی نے کہا: جس امن میں جوہری طاقتیں اپنے ہتھیار کو آزادی اور سلامتی کی ضمانت سمجھتی ہیں، لیکن وہ اپنی ہی اس منطق کی رو سے، پرامن جوہری صلاحیت کو بھی خطرہ قرار دیتی ہیں، تو یقیناً یہ امن و آشتی نہیں ہے بلکہ تکبر اور خود کو برتر سمجھنے کی بنیاد پر طاقت پر اجارہ داری کا دعویٰ ہے۔
انھوں نے بیان کیا: وہ نظام جو سلامتی اور امن و سکون سے مستفید ہونے کو سب کا حق نہیں سمجھتا، امن کا محافظ ہونے سے زیادہ ایک مخصوص گروہ کی تسلط پسندی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ