اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی جریدے ’’دی اٹلانٹک نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کے لیے فوجی حملوں اور سخت دھمکیوں میں ناکامی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال ایک مختلف حکمتِ عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے: مزید فوجی کارروائی نہ کرنا اور وقت کو اپنے حق میں استعمال کرنا۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اب فوجی دباؤ کے بجائے اقتصادی پابندیوں اور ایران کی سمندری ناکہ بندی پر زیادہ انحصار کر رہی ہے، اس امید کے ساتھ کہ وقت گزرنے کے ساتھ تہران مذاکرات پر آمادہ ہو جائے گا۔
’دی اٹلانٹککے مطابق ایران پر محدود حملے، سخت دھمکیاں اور سفارتی کوششیں جنگ ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اسی لیے وائٹ ہاؤس کو اب امید ہے کہ اقتصادی دباؤ وہ نتیجہ حاصل کر سکتا ہے جو فوجی طاقت حاصل نہیں کر سکی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے مشیروں نے انہیں ایران کی معیشت پر پابندیوں کے اثرات کے اعداد و شمار پیش کرکے قائل کیا ہے کہ مزید سخت اقتصادی پابندیاں تہران کو پسپائی پر مجبور کر سکتی ہیں۔ ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کو ’’مکمل طور پر دیوالیہ‘‘ قرار دینے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں اندازہ لگایا تھا کہ یہ تنازع زیادہ سے زیادہ چند ہفتوں تک جاری رہے گا اور ایران آبنائے ہرمز بند نہیں کرے گا، لیکن دونوں اندازے غلط ثابت ہوئے۔
’’دی اٹلانٹک‘‘ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے ایران کی معیشت کے تیزی سے تباہ ہونے کے اندازے بھی درست ثابت نہیں ہوئے۔ تہران نے اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے شدید اقتصادی دباؤ برداشت کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
جریدے کے مطابق امریکی فوج کے ہتھیاروں کے ذخائر پر پڑنے والے دباؤ نے ٹرمپ کے فوجی آپشنز محدود کر دیے ہیں۔ امریکی حکام کو یقین نہیں کہ بڑے پیمانے پر دوبارہ حملہ شروع ہونے کی صورت میں وہ خطے میں موجود امریکی اڈوں اور اتحادیوں کو ایرانی جوابی کارروائی سے مؤثر طور پر محفوظ رکھ سکیں گے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ ایک ایرانی میزائل امریکی دفاعی نظام کو عبور کرکے اردن میں امریکی فوجیوں کے ایک مقام تک پہنچ گیا تھا۔
دی اٹلانٹک کے مطابق ٹرمپ نے فی الحال وقت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت امریکہ نہ تو بڑے نئے فوجی حملے کرے گا اور نہ ہی مذاکرات کو اپنی اولین ترجیح بنائے گا، بلکہ پابندیوں میں اضافہ اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی برقرار رکھ کر تہران پر اقتصادی دباؤ بڑھائے گا۔
رپورٹ کے مطابق یہ حکمتِ عملی امریکی کامیابی کی علامت نہیں بلکہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ٹرمپ کے فوجی اور سفارتی راستے محدود ہو چکے ہیں۔
دی اٹلانٹک نے ٹرمپ کی نئی حکمتِ عملی کو فتح کے بجائے محدود ہوتے امریکی آپشنز کی علامت قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فوجی کارروائی اور سفارتی کوششوں سے مطلوبہ نتائج نہ ملنے کے بعد واشنگٹن اب اقتصادی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے ذریعے ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ