اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عرب تجزیہ کار حسان الحسن کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتوں کے دوران ایران پر امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک کا دباؤ بڑھ گیا ہے، بالخصوص آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے اور خطے کی مزاحمتی و آزادی کی تحریکوں کے لیے تہران کی حمایت کے معاملے پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
تاہم ان کے بقول خطے میں جاری جنگ اور بحران بالآخر ایران کے خلاف امریکی جنگ کے خاتمے اور تہران و واشنگٹن کے درمیان کسی معاہدے کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔ اس معاہدے کی صورت میں مستقبل کے علاقائی انتظامات میں ایران کو بھی اہم کردار دیے جانے کا امکان ہے۔
عرب تجزیہ کار کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کا مسئلہ حل ہونے کے بعد امریکہ کی توجہ عراق، لبنان اور یمن کی مزاحمتی قوتوں کی جانب منتقل ہوسکتی ہے۔
انہوں نے عراق کو اس دباؤ کی پہلی کڑی قرار دیتے ہوئے عراقی وزیراعظم علی الزیدی کے اس مؤقف کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے اسلحے کو صرف ریاست کے اختیار میں رکھنے کی بات کی ہے۔
ان کے مطابق لبنان اس عمل کا دوسرا مرحلہ ہوسکتا ہے، تاہم لبنانی مزاحمت ملک کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ اور تعمیری مذاکرات کے لیے آمادگی پر زور دیتے ہوئے لبنان کو داخلی کشمکش میں دھکیلنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کی کوشش کرے گی۔ تجزیہ کار کے مطابق یہی مؤقف بیرونی دباؤ کے مقابلے میں لبنانی مزاحمت کی ایک اہم قوت بن سکتا ہے۔
تجزیہ کار نے مزید کہا کہ اسرائیل دو وجوہات کی بنا پر لبنان اور خطے میں جنگ کے فوری خاتمے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ پہلی وجہ اکتوبر کے آخر میں ہونے والے اسرائیلی پارلیمانی انتخابات ہیں، کیونکہ لبنان کے معاملے میں کسی بھی رعایت کی صورت میں نتن یاہو کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ جنگ کے خاتمے سے مغربی کنارے اور غزہ میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ دوبارہ زور پکڑ سکتا ہے، جس کی اسرائیل مخالفت کرتا ہے۔
تجزیہ کار نے ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے امکان پر امید ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ خطہ اس وقت انتہائی خطرناک صورتحال سے دوچار ہے اور کوئی بھی غلط یا غیر محتاط قدم مشرق وسطیٰ کو مزید وسیع بحران کی گہرائی میں دھکیل سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ