اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، سعودی وزارتِ توانائی نے اتوار کی صبح جازان کے علاقے میں سعودی آرامکو کی تنصیبات پر حملے کی تصدیق کی۔
عرب ذرائع کے مطابق آرامکو کی جازان تنصیبات میں متعدد دھماکے ہوئے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں جائے وقوعہ سے دھوئیں کے گھنے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
دوسری جانب ناسا کے سیٹلائٹ تھرمل مانیٹرنگ نظام کے اعداد و شمار میں مشرقی سعودی عرب کے الجبیل علاقے میں آرامکو کے ’’بری‘‘ گیس پاور پلانٹ کے مقام پر ایک اور حرارتی سرگرمی کی نشاندہی ہوئی ہے۔ اس سے سعودی عرب کی توانائی تنصیبات پر حملوں کے ممکنہ پھیلاؤ کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
تاہم سعودی حکام نے اب تک حملے سے ہونے والے نقصانات یا تنصیبات کی سرگرمیاں معطل ہونے کے بارے میں کوئی تفصیلی معلومات جاری نہیں کیں۔
جازان کی آرامکو ریفائنری اس سے قبل بھی حملوں کا نشانہ بن چکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ حملے کے نتیجے میں لگنے والی آگ دو ہفتوں سے زیادہ عرصے تک جاری رہی تھی۔
یمن کی جانب سے حالیہ مہینوں میں سعودی عرب کی اہم تنصیبات پر متعدد حملوں کا اعلان کیا جاتا رہا ہے۔ صنعاء کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں یمن کے جاری محاصرے اور اس میں سعودی عرب کے کردار کے ردعمل میں کی جا رہی ہیں۔
یمنی حکام نے واضح کیا ہے کہ جب تک یمن کا محاصرہ ختم نہیں کیا جاتا، بنیادی اشیائے ضروریہ کی درآمد پر عائد پابندیاں نہیں ہٹائی جاتیں اور بندرگاہوں و ہوائی اڈوں سے آمدورفت بحال نہیں ہوتی، سعودی عرب کی اہم تنصیبات کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر بار بار ہونے والے حملوں نے ملک کی توانائی تنصیبات کی سلامتی اور عالمی تیل منڈی پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
آپ کا تبصرہ