اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی چینل 12 نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج اور سکیورٹی اداروں نے غزہ کی پٹی میں فوج کے زیرِ کنٹرول بعض علاقوں سے انخلا اور وہاں بین الاقوامی فورسز کی تعیناتی کے امکان کا جائزہ لیا ہے۔
العربی الجدید کے مطابق یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ اسرائیل پر غزہ سے متعلق منصوبے کے اگلے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے۔
ایک اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار نے چینل 12 سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ امریکہ نے اسرائیل کے لیے ’’زیادہ راستے نہیں چھوڑے‘‘ اور تل ابیب کو غزہ میں ایک مشکل صورتحال کی جانب دھکیل رہا ہے۔
تاہم اسرائیلی عہدیدار نے ان علاقوں کی نشاندہی نہیں کی جہاں سے فوج کے انخلا کا امکان ہے اور نہ ہی اس اقدام کے لیے کوئی ممکنہ وقت مقرر کیا گیا ہے۔
واشنگٹن کا اگلے مرحلے کے لیے دباؤ
رپورٹس کے مطابق زیرِ بحث منصوبے میں اسرائیلی فوج کا غزہ سے مرحلہ وار انخلا، بین الاقوامی فورس کی تعیناتی، غزہ کے انتظام کے لیے ایک ٹیکنوکریٹک حکومت کی تشکیل اور حماس کو غیر مسلح کرنا شامل ہے۔
اسی سلسلے میں ٹرمپ کی جانب سے قائم کردہ ’’امن کونسل‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور معاہدے کے نئے فریم ورک اور اس پر عمل درآمد کے شیڈول کو منظوری کے لیے اسرائیلی سیاسی و سکیورٹی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
العربی الجدید کے مطابق حماس اس سے قبل غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا اور تعمیرِ نو کا عمل شروع کرنے کے بدلے حماس کو غیر مسلح کرنے کے اصول پر آمادگی ظاہر کرچکی ہے، جس سے معاہدے کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
یہ پیش رفت امریکی سینٹ کام کے کمانڈر بریڈ کوپر کے مقبوضہ فلسطین کے دورے کے دوران سامنے آئی ہے۔ عبرانی چینل ’’کان‘‘ کے مطابق کوپر نے اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام سے ملاقات کی، جس میں مختلف محاذوں کی صورتحال اور خطے میں سکیورٹی کی تازہ پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ نے خطے اور اسرائیل میں اپنے فوجی دستوں کو بدستور ہائی الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق درجنوں امریکی فضائی ایندھن بھرنے والے طیارے، جنگی طیارے اور فضائی دفاعی نظام خطے میں تعینات ہیں جبکہ ہزاروں امریکی فوجی بھی مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں۔
آپ کا تبصرہ