اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کے نیشنل سینٹر فار سائنٹیفک ریسرچ کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 کی جنگ کے ابتدائی تقریباً چھ ہفتوں کے دوران 62 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوگئے، جن میں 21 ہزار 700 مکانات مکمل طور پر تباہ جبکہ 40 ہزار 500 کو جزوی نقصان پہنچا۔
اس عرصے کے دوران نبطیہ، بنت جبیل، صور اور مرجعیون کے اضلاع میں سب سے زیادہ نقصانات ریکارڈ کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار 2024 کی جنگ کے مقابلے میں بھی قابلِ توجہ ہیں، جس میں مختلف رپورٹس کے مطابق دسیوں ہزار رہائشی یونٹس متاثر ہوئے تھے جبکہ معاشی نقصانات کا تخمینہ اربوں ڈالر لگایا گیا تھا۔
اسرائیلی حکام نے بھی جنوبی لبنان میں ہونے والی تباہی کے بعض پہلوؤں کا اعتراف کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر جنگ نے 15 سے 20 ہزار مکانات کی تباہی اور بعض نشانہ بنائے گئے دیہات میں تقریباً 90 فیصد عمارتوں کے منہدم ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 24 قصبوں اور دیہات کو منظم انداز میں تباہ کیا گیا۔
اسرائیلی چینل 12 نے بھی سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر جنوبی لبنان کے 19 دیہات میں تقریباً 18 ہزار عمارتوں کی تباہی کی خبر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق محیبیب اور مروَحین سمیت بعض علاقوں میں تباہی کی شرح 100 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ بلیّدا اور مارون الرأس جیسے دیہات میں یہ شرح تقریباً 99 فیصد رہی۔
لبنان کے مشاورتی مرکز برائے مطالعات و دستاویزات کے اعداد و شمار کے مطابق 26 جون سے 18 جولائی 2026 تک، یعنی فریم ورک معاہدے پر دستخط کے بعد 22 دن کے دوران جنوبی لبنان میں 1212 حملے اور خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔
ان کارروائیوں میں فضائی اور توپ خانے کے حملے، جنگی طیاروں اور ڈرونز کی پروازیں، بمباری، گھروں اور زرعی اراضی کو نذرِ آتش کرنا، بلڈوزروں اور انجینئرنگ مشینری کے ذریعے عمارتوں کو منہدم کرنا، بارودی سرنگوں کی صفائی اور دھماکہ خیز کارروائیاں، براہِ راست فائرنگ اور ٹینکوں و فوجی گاڑیوں کی پیش قدمی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے کے دوران روزانہ اوسطاً 10 سے زیادہ حملے ہوئے اور معاہدے کے بعد بھی جنوبی لبنان میں تباہی کا سلسلہ نہیں رکا۔
مجموعی طور پر ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2026 میں جنوبی لبنان میں تباہی صرف فضائی یا توپ خانے کی بمباری تک محدود نہیں رہی بلکہ عمارتوں کو براہِ راست منہدم کرنا، دیہات کو دھماکوں سے تباہ کرنا اور انجینئرنگ مشینری کا استعمال بھی نقصانات کا اہم حصہ بن گیا ہے۔ تاہم مختلف ذرائع کے اعداد و شمار مرتب کرنے کے طریقہ کار اور اوقاتِ کار یکساں نہ ہونے کے باعث حتمی اعداد و شمار کے لیے مزید تصدیق اور تفصیلی جائزے کی ضرورت ہے۔
آپ کا تبصرہ