اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، گارڈین کے سفارتی امور کے مدیر پیٹرک وینٹور نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران کا مقصد جنگ اور اس سے پیدا ہونے والے سیاسی و معاشی دباؤ کے ذریعے ٹرمپ کی مقبولیت کو کم کرنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران میں بعض حلقے امید کر رہے ہیں کہ ٹرمپ کو وہی سیاسی انجام دیکھنا پڑے گا جس کا سامنا سابق امریکی صدر جمی کارٹر کو 1979 سے 1981 کے دوران تہران میں امریکی سفارت خانے کے یرغمالی بحران کے بعد کرنا پڑا تھا۔
گارڈین نے لکھا ہے کہ ایران میں ٹرمپ سے ’’انتقام‘‘ کو جنگ کے ایک الگ اور جائز مقصد کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اخبار کے مطابق شہید رہبر امت کی تشییع جنازہ کی تقریبات کے دوران بھی یہ رجحان نمایاں تھا اور شرکا کی جانب سے انتقام اور خون کا بدلہ لینے کے نعرے سنائی دیے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران اور امریکہ کے درمیان بداعتمادی موجود ہے، تاہم اب یہ دشمنی براہِ راست ٹرمپ کی ذات سے بھی جڑ گئی ہے۔ گارڈین کے مطابق ٹرمپ نے 2018 میں یک طرفہ طور پر ایران کے جوہری معاہدے سے امریکہ کو الگ کیا، جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا حکم دیا اور ایران کو دو مرتبہ جوہری مذاکرات میں شامل کرنے کے باوجود بالآخر سفارت کاری کو ترک کرکے ایران کے خلاف جنگ کا راستہ اختیار کیا۔
نومبر کے انتخابات اہم مرحلہ
گارڈین کے مطابق تہران میں نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کو ابھی سے ایک اہم فیصلہ کن مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی سمیت امریکی سیاسی منظرنامے میں ہونے والی تبدیلیوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
اخبار نے ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے راستے پر اتفاق کے بعد جوہری مذاکرات کے دوسرے مرحلے تک پہنچنے میں دو سے چار ماہ لگ سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے مذاکرات کے اگلے مرحلے میں داخلے کے لیے بعض شرائط بھی پیش کی ہیں، جن میں پابندیوں کا خاتمہ، امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنا، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور مستقبل میں دشمنی نہ کرنے سے متعلق نئی ضمانتیں شامل ہیں۔
گارڈین کے مطابق مذاکرات کا یہ طویل عمل ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات تک ایران کے معاملے میں الجھائے رکھ سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ ٹائم لائن برقرار رہتی ہے تو ٹرمپ وسط مدتی انتخابات میں اس صورتحال کے ساتھ ووٹ ڈالنے جائیں گے کہ انہیں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کوئی ٹھوس ضمانت حاصل نہیں ہوئی ہوگی، جبکہ ایران کے خلاف ایک ناکام جنگ کی بھاری سیاسی اور معاشی قیمت بھی ادا کر چکے ہوں گے۔
گارڈین نے ’’یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران‘‘ نامی گروپ کے جیسن بروڈسکی کے حوالے سے لکھا ہے کہ آنے والے مہینوں میں آبنائے ہرمز کے معاملے پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کے مزید ادوار جاری رہ سکتے ہیں اور وسط مدتی انتخابات سے قبل ’’حقیقی سکون‘‘ پیدا ہونے کا امکان نہیں۔
گارڈین نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر لکھا ہے کہ متعدد ایرانی تجزیہ کاروں کے نزدیک جنگ کا فیصلہ صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ ووٹوں کے ذریعے بھی ہوگا۔ تاہم ایران کے اندر اس بات پر اختلاف موجود ہے کہ وسط مدتی انتخابات تک انتظار کیا جائے یا موجودہ کامیابیوں سے فوری فائدہ اٹھایا جائے۔ اخبار کے مطابق یہ اختلاف ایران اور امریکہ کے مستقبل کے تعلقات اور آئندہ برسوں میں امریکی داخلی سیاست کے رخ پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ