8 اگست 2026 - 16:33
اقوام متحدہ کے ملازم پر اسرائیل کے لیے جاسوسی کا الزام، تحقیقات شروع

اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ اس کے ایک اعلیٰ عہدیدار پر اسرائیل کے لیے جاسوسی اور خفیہ معلومات منتقل کرنے کے الزامات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق متعلقہ اہلکار کو فی الحال انتظامی رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے اپنے ایک اعلیٰ ملازم کے خلاف سنگین الزامات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ مذکورہ اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کے ایک دوسرے ادارے میں خدمات انجام دیتے ہوئے تنظیم کی خفیہ معلومات اسرائیلی سفارت کاروں کو منتقل کیں۔

اناطولیہ نیوز ایجنسی کے مطابق، فرحان حق نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یونیسیف اپنے ایک ملازم ’’یاہاو لیچنر‘‘ کے خلاف عائد ’’سنگین الزامات‘‘ کی تحقیقات کر رہا ہے اور اسے فی الحال انتظامی رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے نائب ترجمان نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ لیچنر کی رخصت تنخواہ کے ساتھ ہے یا بغیر تنخواہ، آیا اس معاملے پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس یا ان کے دفتر سے مشاورت کی گئی ہے، اور آیا اقوام متحدہ کے داخلی نگرانی کے دفتر نے بھی اس معاملے کی تحقیقات شروع کی ہیں۔

فرحان حق نے کہا کہ ان کے پاس متعلقہ شخص کی موجودہ صورتحال کے بارے میں مزید معلومات موجود نہیں ہیں جو وہ فراہم کر سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ لیچنر اس وقت یونیسیف کے واشنگٹن میں قائم دفتر کے سربراہ کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں، اس لیے یہی ادارہ اس معاملے کی تحقیقات کی نگرانی کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ شخص یونیسیف کا ملازم ہے، اس لیے اس کے خلاف مقدمے اور الزامات کی تحقیقات کی ذمہ داری بھی اسی ادارے پر ہے۔ ان کے مطابق اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو یہ اقوام متحدہ کے اہلکار کو تفویض کردہ ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی تصور ہوگی۔

فرحان حق کا یہ بیان ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ لیچنر نے 2014 اور 2015 کے دوران اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ میں خدمات انجام دیتے ہوئے خفیہ طور پر اقوام متحدہ کی درجہ بند دستاویزات اور تنظیم کے اندرونی مشاورتی اجلاسوں کی معلومات اسرائیلی سفارت کاروں کو منتقل کی تھیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha