8 اگست 2026 - 16:18
تجزیہ کار: انصار اللہ کی بڑھتی دفاعی صلاحیت نے سعودی عرب کی حکمتِ عملی بدل دی

ایرانی سیاسی امور کے ماہر ڈاکٹر حسن ہانی زادہ نے کہا ہے کہ انصار اللہ کی بڑھتی ہوئی دفاعی و مزاحمتی صلاحیت اور سعودی عرب کی تیل و دیگر اہم تنصیبات کے غیر محفوظ ہونے کے خدشے نے ریاض کے جنگی حساب کتاب کو تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب ایک طرف ترکی اور پاکستان کے ساتھ علاقائی دفاعی اتحاد بنانے کی کوشش کر رہا ہے تو دوسری جانب جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے انصار اللہ اور یمنی فوج کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات کی راہ بھی اختیار کر رہا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ڈاکٹر حسن ہانی زادہ نے ابنا سے گفتگو کرتے ہوئے یمن اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ کشیدگی کا ذکر کیا اور کہا کہ گزشتہ دنوں پیش آنے والے واقعات نے دونوں ممالک کو ایک نئے فوجی اور سکیورٹی بحران کی جانب دھکیل دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یمن کے خلاف سعودی عرب کے حالیہ حملوں اور اس کے جواب میں انصار اللہ اور یمنی فوج کی جانب سے سعودی عرب کے زیرِ قبضہ علاقوں کو نشانہ بنائے جانے سے دونوں فریقوں کے درمیان مشکلات اور کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

ہانی زادہ نے کہا کہ اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والا ایک عنصر سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کی شمولیت سے ’’مکہ معاہدے‘‘ کے نام سے مشترکہ دفاعی نظام تشکیل دینے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق خدشہ ہے کہ یہ اتحاد بالآخر یمن کے خلاف علاقائی محاذ آرائی کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انصار اللہ نے حالیہ دنوں میں سعودی بحری جہازوں کو باب المندب سے گزرنے سے روکا ہے، جس سے سعودی عرب اور یمن کے درمیان وسیع پیمانے پر تصادم کا امکان بڑھ گیا ہے۔ ان کے بقول ایسی صورتحال ماضی کی اس جنگ کی یاد دلاتی ہے جو سعودی عرب اور یمن کے درمیان 2015 میں شروع ہوئی اور کئی سال جاری رہی، جس میں ہزاروں یمنی شہری شہید ہوئے۔

سیاسی امور کے ماہر نے کہا کہ اس طرح کی صورتحال دوبارہ پیدا ہونے کا امکان موجود ہے، تاہم بعض علاقائی ممالک دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کرکے بحران کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔

ہانی زادہ نے خبردار کیا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان مشترکہ دفاعی اتحاد کا قیام صورتحال کو مزید پیچیدہ کر سکتا ہے اور یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ معاملہ صرف سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک علاقائی اور فرقہ وارانہ تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انصار اللہ کی مذہبی شناخت کے باعث اس تنازع کے فرقہ وارانہ رنگ اختیار کرنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

ریاض مذاکرات کی طرف کیوں بڑھ رہا ہے؟

سعودی عرب کی جانب سے کئی برس تک فوجی آپشن پر انحصار کے بعد اب سفارت کاری اور یمن کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات کی طرف بڑھنے کی وجہ کے بارے میں ہانی زادہ نے کہا کہ یہ تبدیلی ریاض کے سکیورٹی سے متعلق حساب کتاب میں ہونے والی متعدد تبدیلیوں کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت میدان میں پہل انصار اللہ اور یمنی فوج کے ہاتھ میں ہے اور باب المندب کو زبردستی کھولنے کی سعودی کوششوں کے جواب میں انصار اللہ کی کارروائی اس کی طاقت اور دفاعی صلاحیت کا واضح اظہار ہے۔

ان کے مطابق سعودی عرب کو شدید خدشہ ہے کہ جنگ پھیلنے کی صورت میں اس کی اہم تنصیبات کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور سعودی تیل کی برآمدات انتہائی نچلی سطح تک پہنچ سکتی ہیں۔

ہانی زادہ نے کہا کہ یمن کی جانب سے سعودی عرب کی اہم تنصیبات کے خلاف بیلسٹک میزائلوں کے استعمال نے بھی صورتحال کو تبدیل کر دیا ہے، کیونکہ اب یہ تنصیبات انصار اللہ اور یمنی میزائلوں کی زد میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے سعودی عرب ایک طرف ترکی اور پاکستان کے ساتھ علاقائی اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے اور دوسری جانب انصار اللہ اور یمنی فوج کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات کے ذریعے ایسا درمیانی حل تلاش کرنا چاہتا ہے جس سے جنگ کی ضرورت باقی نہ رہے۔

ہانی زادہ کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکہ کے ساتھ ایران اور یمن کے خلاف جنگ میں تعاون کے باعث سعودی عرب کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اس صورتحال کا جاری رہنا ریاض کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

امریکی سکیورٹی چھتری پر سعودی اعتماد کم ہوا

انہوں نے کہا کہ خطے میں طاقت کے موجودہ توازن اور میدان جنگ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے حالات سعودی عرب کے حق میں نہیں ہیں۔

ہانی زادہ کے مطابق سعودی عرب طویل عرصے تک امریکی فوجی طاقت پر انحصار کرتا رہا اور اسے امید تھی کہ امریکہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کو ایک قابلِ اعتماد سکیورٹی چھتری فراہم کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے جوابی حملوں نے ظاہر کر دیا کہ یہ امریکی سکیورٹی چھتری اتنی قابلِ اعتماد نہیں ہے۔

ان کے مطابق اسی وجہ سے سعودی عرب اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستان اور ترکی جیسے خطے کے دو بااثر ممالک کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

ہانی زادہ نے آخر میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں انصار اللہ کی دفاعی و مزاحمتی صلاحیت گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھ چکی ہے، اسی لیے سعودی عرب جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اسے مزید نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha