اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،شہید علی لاریجانی کے اہلِ خانہ نے ان کی شہادت سے متعلق بعض میڈیا قیاس آرائیوں کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر جناب کوثری کی جانب سے شہید لاریجانی کی شہادت کے بارے میں کیے گئے دعووں کے بعد، اہلِ خانہ تمام صاحبانِ رائے اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کرتے ہیں کہ غیر مصدقہ، جلد بازی پر مبنی اور غیر پیشہ ورانہ بیانات سے سختی سے گریز کریں۔
بیان کے مطابق، اہلِ خانہ اس معاملے کی تمام جہات کے بارے میں متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطے میں ہیں، اور مذکورہ دعویٰ نہ صرف ذمہ دار اداروں نے مسترد کیا ہے بلکہ اسے واقعے کے ممکنہ اسباب میں بھی شامل نہیں کیا گیا۔
اہلِ خانہ نے مزید وضاحت کی کہ شہید ڈاکٹر مرتضیٰ جنگِ رمضان سے کئی ماہ قبل ہی اپنا موبائل فون استعمال کرنا چھوڑ چکے تھے اور یومِ شہادت تک ان کے پاس کوئی موبائل فون موجود نہیں تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے اس معاملے میں بھی انتہائی حساس تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس واقعے کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے مستند شواہد پر مبنی، دقیق اور ماہرین کی تحقیقات ضروری ہیں، جبکہ غیر مصدقہ قیاس آرائیاں نہ صرف حقیقت سامنے لانے میں مددگار نہیں بلکہ عوامی تشویش اور شہید کے اہلِ خانہ کی دل آزاری کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔
آخر میں اہلِ خانہ نے سیاسی شخصیات، میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین سے درخواست کی کہ واقعے کی وجوہات اور تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے پہلے متعلقہ اداروں کی سرکاری اور مستند رپورٹوں کا انتظار کریں اور غیر معتبر تجزیوں سے اجتناب کریں، تاکہ حقیقت قانونی اور پیشہ ورانہ طریقے سے قوم کے سامنے آسکے اور شہید کی یاد کو بے بنیاد قیاس آرائیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
آپ کا تبصرہ