اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، عراق کی ممتاز مذہبی تنظیم جماعت علمائے عراق نے حشد الشعبی کے مراکز پر مبینہ امریکی۔سعودی مشترکہ فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے عراق کی خودمختاری اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں۔
تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ جن مراکز کو نشانہ بنایا گیا وہ حشد الشعبی کے سرکاری دفاعی اور عسکری مراکز ہیں، جنہوں نے دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف فیصلہ کن معرکوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ ان قوتوں کو نشانہ بنانا، جنہوں نے دہشت گردی کو شکست دینے میں بنیادی کردار ادا کیا، اس حملے کے اصل مقاصد کے بارے میں سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔ جماعت علمائے عراق نے زور دیا کہ حشد الشعبی کے مراکز ملکی دفاع، سلامتی اور استحکام کے لیے خدمات انجام دیتے رہے ہیں اور ہمیشہ وطن اور اس کے وسائل کے محافظ رہے ہیں۔
تنظیم نے عہد کیا کہ حشد الشعبی اپنے شہداء کی قربانیوں اور قومی ذمہ داری سے وفادار رہے گی، اور عالمی برادری و بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ عراق کی خودمختاری اور اس کے سرکاری عسکری اداروں کی اس مبینہ خلاف ورزی کی واضح مذمت کریں۔
دوسری جانب سعودی وزارتِ دفاع اور امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے الگ الگ بیانات میں عراق میں مزاحمتی گروہوں کے متعدد مراکز اور اسلحہ گوداموں کو نشانہ بنانے کی مشترکہ کارروائی کی تصدیق کی۔ ان کے مطابق یہ حملے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حالیہ ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے۔
ادھر حشد الشعبی کے مطابق بغداد، واسط، نینویٰ، بصرہ، کرکوک، کربلا اور دیالی میں اس کے سرکاری مراکز پر ہونے والے حملوں میں اب تک 20 افراد جاں بحق اور 32 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ فوجی سازوسامان، گاڑیوں اور تنصیبات کو بھی نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ نقصانات کا جائزہ لینے کا عمل جاری ہے اور اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ