اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے شام کے تین روزہ دورے کے اختتام پر کہا ہے کہ جنگ سے متاثرہ ملک کی تعمیرِ نو، بے گھر افراد کی بحالی اور استحکام کے لیے عالمی برادری کو شام کی بھرپور مدد کرنی چاہیے۔ انہوں نے شام پر عائد بعض پابندیاں ختم کرنے اور مالی امداد میں اضافے پر بھی زور دیا۔
گوتیرش نے شام کے صدر احمد الشرع، وزیر خارجہ اسعد الشیبانی اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ شام میں امن، استحکام اور تعمیرِ نو کے عمل کی حمایت جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ شام میں اندرونی طور پر بے گھر افراد کی تعداد میں کمی آئی ہے اور بہت سے شہری اپنے علاقوں کو واپس لوٹ رہے ہیں، جو ملک میں حالات کی بہتری کی ایک مثبت علامت ہے۔ تاہم انہوں نے گزشتہ برسوں کے دوران لاپتہ ہونے والے ہزاروں افراد کے مسئلے کو شام کے لیے ایک بڑا انسانی چیلنج قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے متاثرہ خاندانوں اور متاثرین کی مدد کی اپیل کی۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اپنی گفتگو میں مقبوضہ جولان کی پہاڑیوں کو شام کا حصہ قرار دیا اور اسرائیل کی جانب سے وہاں کی جانے والی کارروائیوں اور افواج کی علیحدگی سے متعلق معاہدے کی خلاف ورزیوں کو "ناقابلِ قبول" قرار دیا۔
گوتیرش نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے، اپنی جارحانہ کارروائیاں بند کرے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر ایک تفصیلی رپورٹ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی پیش کی جائے گی۔
آپ کا تبصرہ