اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، بحرین کی اسلامی سیاسی تنظیم الوفاق نے بحرین کے بادشاہ اور اسرائیلی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ اتحاد بحرین یا خطے کے لیے امن و استحکام نہیں لا سکتا بلکہ مزید خطرات کو جنم دے گا۔
الوفاق نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسے وقت میں جب پورا خطہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کی ضرورت محسوس کر رہا ہے، بحرینی حکومت کا یہ اقدام عوامی اور قومی اتفاقِ رائے سے انحراف اور امریکی و اسرائیلی ایجنڈے کی پیروی کا مظہر ہے۔
تنظیم کے مطابق ابراہیم معاہدوں کے پانچ سال گزرنے کے باوجود یہ معاہدے فلسطینی عوام کے خلاف جاری جنگی جرائم اور نسل کشی پر سفارتی پردہ ڈالنے کے سوا کوئی مثبت کردار ادا نہیں کر سکے، جبکہ غزہ، مغربی کنارے اور اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں پر مظالم بدستور جاری ہیں۔
الوفاق نے مزید کہا کہ اسرائیل کی مسلسل جنگیں ثابت کرتی ہیں کہ وہ خطے کی سلامتی کے لیے ایک اسٹریٹجک خطرہ ہے، اس لیے اس کے ساتھ اتحاد بحرین، عرب اور اسلامی دنیا کے مفادات کے منافی ہے۔
بیان کے اختتام پر الوفاق نے بحرینی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ بنے، امریکی و اسرائیلی پالیسیوں سے فاصلہ اختیار کرے اور قومی خودمختاری کو فیصلہ سازی کی بنیاد بنائے۔ تنظیم نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی قیادت سے رابطہ بحرینی عوام کی خواہشات کی نمائندگی نہیں کرتا۔
آپ کا تبصرہ