25 جولائی 2026 - 15:00
مآخذ: ابنا
صنعاء: سعودی عرب کی تیل تنصیبات ہماری ہدفی فہرست میں شامل، بھرپور جواب دیں گے

صنعاء حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر سعودی عرب نے یمن کے خلاف اپنی کارروائیاں اور دباؤ جاری رکھا تو جوابی اقدامات کے تمام امکانات زیر غور ہیں، جن میں سعودی عرب کی تیل اور معاشی تنصیبات کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،صنعاء حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر سعودی عرب نے یمن کے خلاف اپنی کارروائیاں اور دباؤ جاری رکھا تو جوابی اقدامات کے تمام امکانات زیر غور ہیں، جن میں سعودی عرب کی تیل اور معاشی تنصیبات کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔

یمن کی حکومتِ صنعاء کے نائب وزیر خارجہ عبداللہ صبری نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سعودی عرب کو کسی بھی نئی عسکری کشیدگی یا اشتعال انگیز اقدام سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ ایسی صورت میں یمن کی جانب سے سخت، جامع اور مؤثر ردعمل دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یمن نے "محاصرے کے بدلے محاصرہ" اور "کشیدگی کے بدلے کشیدگی" کی حکمت عملی اپنائی ہے، جس کا مقصد یمنی عوام کے حقوق کا تحفظ اور ملک پر عائد اقتصادی و فضائی پابندیوں کا خاتمہ ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے جاری حالات نے عوام اور حکومت دونوں پر شدید دباؤ ڈالا، جس کے بعد قیادت نے مزید سخت مؤقف اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

عبداللہ صبری کا کہنا تھا کہ یمن کی موجودہ پالیسی صرف داخلی حالات تک محدود نہیں بلکہ خطے میں ہونے والی تبدیلیوں سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ ان کے بقول اگر علاقائی پیش رفت یمن اور اس کے اتحادیوں کے حق میں جاتی ہے تو صنعاء کو اس سے فائدہ اٹھانے کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا کہ ریاض نے کشیدگی کم کرنے کے بجائے حالیہ دنوں میں دوبارہ یمن پر حملے کیے، جن میں صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ سعودی قیادت تنازع کو مزید بڑھانے کی راہ پر گامزن ہے۔

نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے یمن کو ایران کے ایجنڈے پر عمل کرنے کا الزام نئی بات نہیں، بلکہ 2015 سے یہی مؤقف دہرایا جا رہا ہے، تاہم بعد کے واقعات نے ان دعوؤں کو بے بنیاد ثابت کیا۔

عبداللہ صبری نے مزید کہا کہ اگر سعودی عرب نے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں تو یمن کی مسلح افواج کے لیے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات اور دیگر اہم اقتصادی مراکز ممکنہ اہداف میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ صنعاء اس حوالے سے پہلے بھی متعدد بار ریاض کو خبردار کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یمن نے سیاسی اور انسانی بنیادوں پر مسائل کے حل کے لیے کئی مواقع فراہم کیے، لیکن سعودی عرب نے یمنی عوام کے بنیادی انسانی اور اقتصادی حقوق سے متعلق مطالبات پر مثبت پیش رفت نہیں دکھائی۔

آخر میں عبداللہ صبری نے زور دیا کہ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو اس کی مکمل ذمہ داری سعودی عرب پر عائد ہوگی، کیونکہ سیاسی اور سفارتی کوششوں کی ناکامی کا سبب بھی ریاض کا رویہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن اپنے قومی مفادات اور عوام کے حقوق کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha