اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اردن کی متعدد سیاسی، سماجی، علمی اور قبائلی شخصیات نے ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کیے گئے سیکیورٹی اور فوجی معاہدے کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ اس کے خاتمے یا اس میں پابندیاں عائد کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے سے متعلق تمام ذمہ داریوں اور شرائط کے بارے میں عوام کو شفاف معلومات فراہم کی جائیں اور اردن کی خودمختاری و آزادانہ فیصلہ سازی کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
اردنی شخصیات نے زور دیا کہ ملک کے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، فوجی اڈوں اور دیگر اہم تنصیبات کو خطے میں جاری تنازعات سے متعلق کسی بھی فوجی، سیکیورٹی یا لاجسٹک کارروائی کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اردن کو موجودہ علاقائی تنازعات میں شامل نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس کا تسلسل ملک کے لیے سیکیورٹی، سیاسی اور اقتصادی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
دستخط کنندگان نے اردن کی مسلح افواج کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوج کا بنیادی مشن قومی خودمختاری کا دفاع اور اسرائیلی حکومت کے مقابلے میں ملک کے مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے۔
یہ بیان درجنوں سابق وزرا، سابق ارکان پارلیمنٹ، یونیورسٹی اساتذہ، وکلا، مصنفین، یونین رہنماؤں اور سیاسی و سماجی شخصیات کے دستخطوں سے جاری کیا گیا ہے۔
بیان میں اردنی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غیر جانب دارانہ پالیسی اختیار کرے اور خطے میں جاری تنازعات سے متعلق کسی بھی فوجی یا لاجسٹک سرگرمی میں شرکت سے گریز کرے۔
آپ کا تبصرہ