اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحری نقل و حمل کی نگرانی کرنے والی کمپنی کپلر کے جاری کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ منگل کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد گزشتہ روز کے مقابلے میں کم رہی۔
رپورٹ کے مطابق اس روز کوئی بھی بڑا خام تیل بردار جہاز یا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے جانے والا جہاز آبنائے ہرمز سے نہیں گزرا۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی حکام پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز سے آمدورفت آئندہ اطلاع تک اجازت نامے کے حصول سے مشروط ہوگی۔
دوسری جانب بحیرہ احمر میں سعودی عرب سے خام تیل لے جانے والے دو آئل ٹینکرز نے باب المندب کے قریب اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔ یہ اقدام یمنی مسلح افواج کی جانب سے سعودی تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روکنے کی دھمکی اور بحری کمپنیوں کو سعودی بندرگاہوں پر سامان لادنے یا اتارنے سے گریز کی ہدایت کے بعد سامنے آیا۔
صنعا سے وابستہ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یمنی بحریہ نے سعودی عرب کی بندرگاہوں کی طرف جانے والے بعض بحری جہازوں کو روک دیا ہے۔ اسی دوران خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ سعودی خام تیل لے جانے والے دو ٹینکرز کو راستہ تبدیل کرکے واپس لوٹنا پڑا۔
ادھر بحری سیکیورٹی کمپنی امبری نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں سعودی عرب سے متعلق بحری جہازوں پر حملوں کے خطرے میں اضافے سے خبردار کیا ہے، جبکہ رائٹرز کے مطابق اس راستے پر جہازوں کی بیمہ لاگت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
آپ کا تبصرہ