22 جولائی 2026 - 16:09
نیویارک میں کیتھولک راہبات کا متنازع قانون کے خلاف احتجاج

امریکی ریاست نیویارک میں کیتھولک راہبات نے ایک متنازع قانون کے خلاف عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں لاعلاج مریضوں کو معاون خودکشی سے متعلق مشورہ دینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ ان کے مذہبی عقائد کے خلاف ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، نیویارک کی متعدد کیتھولک راہبات اور مذہبی اداروں نے ایک قانونی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ریاستی قانون انہیں ایسے مریضوں کو معاون خودکشی (Physician-Assisted Suicide) سے متعلق معلومات اور مشاورت فراہم کرنے پر مجبور کر سکتا ہے، جو ان کے مذہبی عقائد اور اصولوں سے متصادم ہے۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اس قانون کے تحت مذہبی اداروں سے یہ تقاضا کیا جا سکتا ہے کہ وہ لاعلاج مریضوں کو معاون خودکشی کے طریقہ کار، اس کے قانونی تقاضوں اور متعلقہ ادویات کے حصول کے مراحل سے آگاہ کریں، جسے وہ اپنے مذہبی نظریات کے خلاف سمجھتے ہیں۔

انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ مذہبی راہبات اور کلیسائی اداروں کو اس قانون پر عمل کرنے کا پابند نہ بنایا جائے اور اگر کوئی مذہبی ادارہ اس عمل میں شریک ہونے سے انکار کرے تو اسے کسی قسم کی سزا یا قانونی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اس مقدمے کے درخواست گزاروں میں روزاری ہِل ہوم بھی شامل ہے، جسے ڈومینیکن سسٹرز آف ہاؤتھورن چلاتی ہیں۔ یہ خیراتی ادارہ نیویارک میں کم آمدنی والے تقریباً 45 ہزار سرطان کے مریضوں کو بلا معاوضہ علاج، نگہداشت اور زندگی کے آخری مرحلے تک خدمات فراہم کرتا ہے، خواہ ان کا مذہب یا ثقافتی پس منظر کچھ بھی ہو۔

ڈومینیکن سسٹرز آف ہاؤتھورن کی سربراہ مدر میری ایڈورڈ نے کہا، "گزشتہ 125 برس سے ہم سرطان کے باعث زندگی کے آخری مرحلے میں پہنچنے والے غریب مریضوں کی خدمت کر رہے ہیں۔ ہمارا مقصد انہیں محبت، دعا، سکون اور طبی نگہداشت فراہم کرنا ہے، نہ کہ معاشی وجوہات کی بنا پر انہیں موت کی طرف مائل کرنا۔"

انہوں نے امید ظاہر کی کہ عدالت مذہبی آزادی کے حق میں فیصلہ دے گی تاکہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق مریضوں کی خدمت جاری رکھ سکیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha