اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پاکستانی ذرائع ابلاغ نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ حکومت امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے ممکنہ معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا جائزہ لے رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق زیر غور تجاویز میں ہفتہ وار سرکاری اوقاتِ کار میں کمی، سرکاری گاڑیوں کے استعمال کو محدود کرنا اور سرکاری اداروں میں ایندھن کی کھپت کم کرنا شامل ہے، تاہم ان اقدامات پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ایک باخبر ذریعے کے مطابق اسلام آباد نے امریکہ سے پانچ سالہ مدت کے لیے 10 ارب ڈالر کی مالی سہولت فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس مالی معاونت کا مقصد زرِ مبادلہ کی شرح میں استحکام، قومی کرنسی پر دباؤ میں کمی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر انحصار کم کرنا بتایا گیا ہے، جبکہ پاکستان پہلے ہی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ اقتصادی اصلاحاتی پروگرام پر عمل درآمد کر رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کی یہ مالی درخواست ایران سے متعلق بعض سفارتی ثالثی کی کوششوں میں اسلام آباد کے کردار کے بعد سامنے آئی ہے، اور حکومت کو امید ہے کہ اس کے بدلے امریکہ اور اس کے اتحادی معاشی تعاون فراہم کریں گے۔ تاہم امریکی وزارتِ خزانہ نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، جبکہ پاکستان کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے بھی تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ادھر پاکستان کے وزیر خزانہ نے اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات میں خطے کی جغرافیائی سیاسی صورت حال کے ملکی معیشت پر ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے اقتصادی اصلاحاتی پروگرام پر عمل پیرا ہے، جبکہ عالمی ریٹنگ ادارے فچ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ یا رسد میں خلل پیدا ہوا تو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر شدید دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ