22 جولائی 2026 - 15:59
مدیر جامعہ مدینۃ العلم اسلام آباد: قرآن سے وابستگی، امت کا اتحاد اور شجاعت رہبرِ شہید کے تین لازوال ورثے ہیں

پاکستان کے شہر اسلام آباد میں جامعہ مدینۃ العلم کے مدیر حجۃ الاسلام سید محمد نجفی نے رہبرِ شہید کی تشییع میں اپنی شرکت کو تاریخی سعادت قرار دیتے ہوئے کہا کہ قرآن سے وابستگی، امتِ مسلمہ کا اتحاد اور شجاعت و ایثار رہبرِ شہید کے وہ تین عظیم ورثے ہیں جنہیں آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا پوری امتِ مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جامعہ مدینۃ العلم کے مدیر حجۃ الاسلام سید محمد نجفی نے رہبرِ شہیدِ انقلاب اسلامی کی شخصیت، خدمات اور فکری میراث پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی، جدوجہد اور شہادت آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

انہوں نے رہبرِ شہید کی پُرشکوہ تشییع میں شرکت کو اللہ تعالیٰ کا عظیم فضل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی اجتماع میں لاکھوں سوگواروں کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ رہبرِ شہید مؤمنوں کے دلوں میں غیر معمولی مقام رکھتے تھے۔ ان کے بقول مسجد مقدس جمکران سے لے کر حضرت فاطمہ معصومہؑ کے روضۂ اقدس کے اطراف تک اشک بار عوام کا سمندر ایک ناقابلِ فراموش منظر پیش کر رہا تھا۔

حجۃ الاسلام سید محمد نجفی نے کہا کہ رہبرِ شہید نے اپنی سیرت اور افکار کے ذریعے بالخصوص پاکستان سمیت عالم اسلام میں امتِ مسلمہ کے اتحاد کو فروغ دیا اور یہ پیغام دیا کہ اسلام کی عزت، سربلندی اور قوت صرف قرآنِ کریم سے تمسک اور اہل بیتؑ کی تعلیمات کی پیروی میں مضمر ہے۔

انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کوثر نیازی کے اس شعر کا حوالہ دیا:

"حالِ ما در ہجرِ رہبر کم‌تر از یعقوب نیست، او پسر گم‌کردہ بود، ما پدر گم‌کردہ‌ایم۔"

انہوں نے کہا کہ آج یہ شعر پہلے سے کہیں زیادہ رہبرِ شہید پر صادق آتا ہے، کیونکہ پوری امت خود کو ایک شفیق باپ اور مضبوط سہارا کھونے کے غم میں مبتلا محسوس کر رہی ہے۔

شہادت، اخلاص اور شجاعت کا صلہ

جامعہ مدینۃ العلم اسلام آباد کے مدیر نے رسول اکرم ﷺ کے فرمان "الإسلام یعلو ولا یُعلی علیہ" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رہبرِ شہید نے اپنی پوری زندگی، مسلسل جدوجہد اور بالآخر شہادت کے ذریعے اس نبوی فرمان کی عملی تفسیر پیش کی اور ثابت کیا کہ اسلام ہمیشہ سربلند رہے گا۔

انہوں نے رہبرِ شہید کے تین نمایاں اور دائمی ورثوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلا اور سب سے اہم ورثہ قرآنِ کریم سے گہرا تعلق ہے۔ اگر امتِ مسلمہ قرآن کو اپنی عملی زندگی کا محور بنا لے تو یہی کتابِ ہدایت مسلمانوں کی عزت، ترقی اور کامیابی کی ضامن بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسرا عظیم ورثہ امتِ مسلمہ کا اتحاد ہے۔ رہبرِ شہید ہمیشہ مسلمانوں کو باہمی اخوت، یکجہتی اور ایک دوسرے کے مقدسات کے احترام کی تلقین کرتے رہے اور اختلافات و تفرقہ انگیزی سے بچنے پر زور دیتے تھے۔ ان کا یقین تھا کہ امت کی طاقت اور وقار اتحاد و یکجہتی میں پوشیدہ ہے۔

حجۃ الاسلام سید محمد نجفی نے شجاعت اور ایثار کو رہبرِ شہید کا تیسرا عظیم ورثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عملی طور پر ثابت کیا کہ مکتبِ اہل بیتؑ کا حقیقی پیرو کبھی دھمکیوں یا دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکاتا۔ انہوں نے خصوصی سیکیورٹی انتظامات کی تجاویز کے باوجود ہمیشہ عوام کے درمیان رہنے کو ترجیح دی اور کہا کہ جب عام لوگوں کو ایسی سہولتیں میسر نہیں تو انہیں بھی کوئی خصوصی امتیاز حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص، شجاعت اور مجاہدانہ کردار کو شہادت کے عظیم مرتبے سے نوازا۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ رہبرِ شہید کی علمی، قرآنی، اخلاقی اور انقلابی میراث کو محفوظ رکھنا اور اسے نوجوان نسل تک منتقل کرنا آج امتِ مسلمہ کی اہم ترین ذمہ داری ہے، تاکہ یہ قیمتی سرمایہ آئندہ نسلوں کے لیے عزت، بیداری اور پیشرفت کا ذریعہ بن سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha