اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،تحریک حماس کی جانب سے خلیل الحیہ کو نئے سربراہِ سیاسی دفتر منتخب کیے جانے کو مبصرین نے محض تنظیمی تبدیلی نہیں بلکہ مزاحمت کے تسلسل اور غزہ کی مرکزی حیثیت کے واضح اعلان سے تعبیر کیا ہے۔
حماس نے پیر کے روز اعلان کیا کہ خلیل الحیہ، شہید یحییٰ سنوار کے جانشین کے طور پر سیاسی دفتر کی قیادت سنبھالیں گے۔ یحییٰ سنوار 16 اکتوبر 2024 کو رفح میں اسرائیلی افواج سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، جنگ کے دوران حماس کی اعلیٰ قیادت کو بھاری نقصانات اٹھانے کے باوجود خلیل الحیہ کا انتخاب اس بات کا اظہار ہے کہ تحریک اپنی مزاحمتی پالیسی پر قائم ہے اور غزہ اب بھی تنظیمی اور سیاسی فیصلوں کا مرکز ہے۔
خلیل الحیہ، جو فلسطینی حلقوں میں "ابو اسامہ" کے نام سے معروف ہیں، حماس کے قدیم اور نمایاں رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ کئی برس تک سیاسی دفتر کے رکن اور غزہ میں حماس کے نائب سربراہ رہے، جبکہ یحییٰ سنوار کی شہادت کے بعد غزہ میں تحریک کی قیادت بھی ان کے پاس رہی۔
5 نومبر 1960 کو غزہ میں پیدا ہونے والے خلیل الحیہ اسلامی تعلیمات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھتے ہیں۔ وہ شادی شدہ اور سات بچوں کے والد ہیں، جن میں سے چار اسرائیلی حملوں میں شہید ہو چکے ہیں۔
الحیہ 1990 کی دہائی کے آغاز میں تین سال اسرائیلی جیلوں میں قید رہے۔ رہائی کے بعد انہوں نے حماس میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور تین دہائیوں سے زائد عرصے میں تنظیم کی اعلیٰ قیادت تک پہنچے۔ 2006 کے فلسطینی قانون ساز انتخابات میں وہ حماس کے ٹکٹ پر رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے، جبکہ 2021 کے انتخابات میں بھی حماس کی انتخابی فہرست کی قیادت کر رہے تھے، تاہم یہ انتخابات بعد میں منسوخ کر دیے گئے۔
خلیل الحیہ طویل عرصے سے اسرائیل کی مطلوب شخصیات میں شامل رہے ہیں۔ 2007 اور 2014 میں ان پر قاتلانہ حملے کیے گئے جن میں ان کے خاندان کے متعدد افراد، بشمول ان کا بیٹا، شہید ہوئے، تاہم وہ محفوظ رہے۔ 2025 میں دوحہ میں ہونے والے ایک اسرائیلی فضائی حملے میں بھی وہ بچ گئے، لیکن ان کے بیٹے ہمام اور دفتر کے ڈائریکٹر جہاد لبد شہید ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیل اور امریکہ کو امید تھی کہ جنگ کے بعد حماس میں ایسی قیادت سامنے آئے گی جو سابق رہنماؤں کے مقابلے میں کم سخت مؤقف اختیار کرے گی، لیکن خلیل الحیہ کے انتخاب نے ان توقعات کو غلط ثابت کر دیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، ان کا انتخاب صرف حماس کے اندرونی اعتماد کا اظہار نہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ تحریک اب بھی فلسطینی مزاحمت کی نمائندہ قوت کے طور پر اپنی تنظیمی اور سیاسی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
حماس کے قریبی ذرائع کے مطابق، خلیل الحیہ کو ایک مضبوط، مشاورت پر یقین رکھنے والی اور مزاحمت کے اصولوں سے وابستہ شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی ذاتی زندگی میں بھی بڑی قربانیاں دی ہیں اور اپنے چار بیٹوں سمیت خاندان کے متعدد افراد کو فلسطین کی راہ میں کھو چکے ہیں۔
غزہ میں انہیں "غزہ کی آواز" اور شہید یحییٰ سنوار کے سیاسی وارث کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ وہ نہ صرف حماس کی سیاسی قیادت کا اہم حصہ رہے بلکہ عسکری قیادت کے ساتھ بھی قریبی رابطے میں رہے اور محمد الضیف سمیت دیگر رہنماؤں کے ساتھ مختلف مراحل میں کام کیا۔
ذرائع کے مطابق، خلیل الحیہ ان رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے شہید یحییٰ سنوار کے ساتھ مل کر محورِ مزاحمت کے ممالک، حزب اللہ اور شام کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ خلیل الحیہ کا انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ حماس شدید جنگی دباؤ اور قیادت کو پہنچنے والے نقصانات کے باوجود اپنی تنظیمی قوت، غزہ کی مرکزی حیثیت اور مزاحمت کی حکمت عملی پر قائم ہے، اور یہ فیصلہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک واضح سیاسی پیغام بھی ہے۔
آپ کا تبصرہ