بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ پچھلے دو دنوں کے دوران اب تک 5 جہاز آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں میں امریکہ کے ترسیم کردہ غیر قانونی روٹ پر، نشانہ بنائے گئے ہیں۔
موصولہ رپورٹس اور مختلف ذرائع کی تصدیق کے مطابق، درج ذیل تیل بردار جہازوں پر حملہ کیا گیا ہے:
- الرکیات (Al Rekayyat):
یہ تیل بردار جہاز قطر سے تعلق رکھتا ہے جو مائع قدرتی گیس (LNG) لے جا رہا تھا۔ جس کا انتظام ناقلات کمپنی (قطر گیس انڈسٹری کی شپنگ بازو) کے ہاتھ میں تھا، عمان کے ساحلوں کے قریب حملے کی زد میں آیا۔
اس جہاز کے کپتان نے ایک ہنگامی پیغام میں بتایا کہ اس کا جہاز ڈرون کی زد میں آیا ہے اور اس کے جہاز کے انجن روم میں آگ لگ گئی اور انجن کا حصہ دھوئیں سے بھر گیا ہے۔ جہاز کا عملہ محفوظ ہے اور اسے نکال لیا گیا ہے۔
- ودیان (Wedyan):
یہ تیل بردار جہاز سعودی عرب سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ بڑا جہاز جو سعودی پرچم تلے سفر کر رہا تھا، عمان کے ساحلوں پر حملے کی زد میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ جہاز بھی دیگر تیل بردار جہازوں کی طرح آبنائے ہرمز سے نکلنے کے غیر قانونی روٹ پر حملے کی زد میں آیا۔

- الماریہ (Al-Mariyah):
یہ جہاز متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، مائع گیس (LPG) لے جانے والا یہ تیل بردار جہاز بھی ان غیر قانونی روٹ سے گذرنے کی کوشش کے دوران حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان تین تیل بردار جہازوں کے علاوہ، رپورٹس بتاتی ہیں کہ کم از کم دو دیگر تجارتی جہاز بھی نشانہ بنائے گئے ہیں۔
برطانیہ کی سمندری تجارتی کارروائیوں کی تنظیم (UKMTO) نے ایک اور تیل بردار جہاز پر نامعلوم پروجیکٹائل کے حملے کی اطلاع دی ہے جس سے اس کو شدید "ساختی نقصان" پہنچا ہے۔
نیز اخباری ذرائع 5 اور 6 جولائی کی راتوں کے دوران ایک اور تیل بردار جہاز پر حملے کی خبر دے رہے ہیں جس کی اب تک کوئی رپورٹ جاری نہیں کی گئی ہے۔
نکتہ:
واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان 'دو ملکوں کے سربراہوں کے دستخطوں سے جاری' مفاہمت نامے کے مطابق، آبنائے ہرمز کا انتظام ایران کے سپرد کیا گیا ہے لیکن امریکہ اپنی عہدشکنی کی لت کی رو سے، ایرانی انتظآم میں خلل ڈالنے کے لئے کوشاں ہے اور اس نے یمن کے ساحل کے قریب ایک غیر قانونی روٹ کے ذریعے جہاز گذارنے کی کوشش کر رہا ہے اور جب ایران ضابطہ نافذ کرنے کے لئے غیر قانونی راستے سے گذرنے والے جہازوں کو نشانہ بناتا ہے تو وہ ایران کے جنوبی علاقوں پر حملے کرتا ہے اور اس کے جواب میں کئی گنا بڑا جواب وصول کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ