وزیرخارجہ منوچہرمتکی نے تہران میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اگرایٹمی ہتھیار طاقت کے طورپرہوتے تو صہیونی ریاست کوحزب اللہ اورحماس سے شکست نہ ہوتی ۔اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ نے امریکہ روس اورآئی اے ای اے کے ساتھ ہونےوالی بالواسطہ اوربلاواسطہ گفتگوکے بارے میں کہا کہ انھیں ایران کے موقف کا بخوبی علم ہے اورہم ان کے جواب کا انتظارکررہے ہیں ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ نے بعض مغربی ملکوں کے ان اعترافات کا ذکرکرتے ہوئے کہ ایران پرپابندیوں کا کوئی اثرنہیں ہوگا کہاکہ متعدد ملکوں نے امریکی صدرباراک اوباما کویہ مشورہ بھی دیا ہے کہ ایران سے مفاہمت آمیزرویہ ہی امریکہ کونجات دلاسکتا ہے ۔ منوچـہرمتکی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس کونسل کو منطقی رویہ اپنا کراپنا وقار بچانا چاہئے کیونکہ اس وقت سلامتی کونسل کےسامنے سب سے بڑا چیلنج اپنی حیثیت ووقار کا تحفظ کرنا ہے انھوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ سلامتی کونسل ماضی کی غلطیوں کی تکرارنہیں کرے گی .
۔۔۔۔۔۔
/110