5 جولائی 2026 - 23:31
دوسری قسط یمن کی ناکہ بندی ٹوٹ گئی؛ انصاراللہ کی اسٹریٹجک فتح / صنعاء کی فضاؤں سے تہران کے قلب تک، ایک نئے دور کا آغاز

انصاراللہ یمن نے ایک جرأتمندانہ اور انتہائی اہم قدم اٹھاتے ہوئے سعودی لڑاکا طیاروں کو مار بھگایا اور یمن کی 11 سالہ فضائی ناکہ بندی کو توڑ دیا اور صنعاء-تہران فضائی روٹ بحال کرکے مقاومت کے لئے ایک اہم فتح حاصل کر لی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ جمعہ 3 جولائی 2026 کو، یمن کی مسلح افواج نے اپنے فضائی دفاع کے ذریعے سعودی لڑاکا طیاروں کو پیچھے دھکیل دیا جو ایرانی سول طیارے کو صنعاء ایئرپورٹ پر اترنے سے روکنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

دوسری قسط:

اس فتح کو تقویت دینے والے عوامل

کئی کلیدی عوامل نے اس کامیابی کو مزید نمایاں کیا ہے۔

اول: خطے کے سب سے جدید فوجی اتحادوں میں سے ایک، کے خلاف انصاراللہ کی مسلسل مزاحمت۔

دوئم: ایران کی مؤثر حمایت جس نے سول طیارہ بھیج کر اپنا ناکہ بندی توڑنے کا عزم آشکار کر دیا۔

سوئم: یمن میں جنگی تیاری اور عوامی لام بندی، جس نے مسلح افواج کو درستگی اور تیز رفتاری سے ردِ عمل ظاہر کرنے کی صلاحیت دی۔

چہارم: فرسودہ کرنے والی جنگ (War of attrition) سے سعودی عرب کی تھکن۔ ریاض، جس نے کبھی چند ہی دنوں میں  فوری فتح کا وعدہ کیا تھا، اب انصاراللہ کے براہِ راست خطرات کا سامنا کر رہا ہے اور وہ ایک نئی وسیع کشمکش سے بچنے کو ترجیح دیتا ہے۔

اس فتح نے یمن کی اندرونی سطح پر بھی ایک واضح پیغام دیا: محصور عوام اب دیکھ رہے ہیں کہ مزاحمت کے نتیجہ بخش ہوتی ہے، اور انصاراللہ شدید دباؤ کے کے باوجود بیرونی دنیا سے رابطے کے راستے کھولنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس نے تحریک کی اندرونی قانونی حیثیت کو مضبوط کیا اور طویل مدتی مصائب کے خاتمے کی امید میں اضافہ کیا۔ یہاں تک کہ ناقدین بھی اس واقعے کی عملی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتے؛ ایک ہوائی اڈا جس کی تقدیر غیروں کے ہاتھ میں تھی اور برسوں محصور تھا، اب براہِ راست پروازوں کی میزبانی کر رہا ہے اور یہ ایک نئے عمل کا آغاز ہے۔

اس فتح نے تحریک انصار اللہ کی اندرونی قانونیت اور سعودی-امریکی مسلط کردہ طویل مدتی مصائب اور رنج و تعب کے خاتمے کی امید میں اضافہ کیا ہے۔ یہاں تک کہ ناقدین بھی اس واقعے کی عملی اہمیت کا انکار نہیں کر سکتے؛ جس ایئرپورٹ کی قسمت کا فیصلہ غیر ملکیوں کے رحم و کرم پر تھا، اور کئی برسوں سے محصور تھا، اب براہ راست بیرونی پروازوں کا میزبان ہے اور یہ ایک نئے عمل کا آغاز ہے۔

وسیع تر پہلو اور خطے کو پیغام

انصاراللہ کی اس کامیابی کو علاقائی صورت حال کے تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ یمن کے جنوب میں جھڑپوں اور ان علاقوں میں سعودی عرب کے ٹھکانوں کی بحالی کے بعد، انصاراللہ نے اس اقدام کے ذریعے ثابت کرکے دکھایا کہ وہ اب بھی شمالی اور مغربی یمن میں مرکزی اداکار ہے اور سعودیہ کے قائم کردہ فارمولے کو متاثر کر سکتا ہے۔ جارحیت دہرائے جانے کی صورت میں جامع جواب کی دھمکی، ـ جس میں سعودی عرب کی اہم تنصیبات اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے، ـ ایک طاقتور تسدیدی ذریعے کو جنم دے چکی ہے جس نے ریاض کو احتیاط برتنے پر مجبور کر دیا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکٹیکل فتح بڑی اسٹریٹجک کامیابیوں کا باعث بن سکتی ہے۔ فضائی ناکہ بندی ـ جو یمن پر دباؤ کے اہم ستونوں میں سے ایک تھی، ـ اب اس میں شگاف پڑ گیا ہے اور اس کے بندرگاہوں اور تجارتی راستوں تک پھیلنے کا امکان زیادہ ہے۔

انصاراللہ نےاپنے آپ کو، اس اقدام کے ذریعے نہ صرف ناکہ بندی کے خلاف ناقابلِ شکست قوت کے طور پر متعارف کرایا بلکہ کامیاب مزاحمت کا ایک نمونہ بھی پیش کیا جس کا خطے پر وسیع اثر پڑا ہے۔ یقیناً چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ ناکہ بندی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور معاشی دباؤ جاری ہے لیکن دشمن کمزور ہو گیا ہے اور انصار اللہ کی طاقت میں زبردست اضافہ ہؤا ہے؛ چنانچہ ناکہ بندی اور معاشی دباؤ کے خاتمے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha