اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای، رہبرِ شہیدِ انقلاب اسلامی، کی تشییع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ سرکاری تقریب کے آغاز سے قبل ہی ہزاروں افراد تشییع کے مقام کی جانب جانے والی سڑکوں پر جمع ہو گئے تھے اور ایران کے دشمنوں سے انتقام کے نعرے لگا رہے تھے۔
اخبار نے ایرانی حکام کے اندازوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صرف تہران میں تشییع میں شریک افراد کی تعداد دو کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ جبکہ تہران، قم، مشہد اور عراق کے مقدس شہروں میں منعقد ہونے والی تقریبات کو ملا کر مجموعی شرکاء کی تعداد تقریباً ساڑھے تین کروڑ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ٹیلی گراف کے مطابق یہ تعداد اس تقریب کو جدید تاریخ کی سب سے بڑی آخری رسومات میں شامل کرتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد میں شرکت آیت اللہ خامنہ ای کی عوامی مقبولیت اور مضبوط عوامی حمایت کی عکاس ہے۔ اخبار کے مطابق مغربی حلقوں کی ان پیش گوئیوں کے برعکس، جن میں ایران میں بدامنی یا داخلی اتحاد کے کمزور ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا، لاکھوں افراد اپنے شہید رہبر کو آخری الوداع کہنے کے لیے سڑکوں پر موجود ہیں۔
ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا کہ اس تقریب میں تقریباً 100 ممالک کے وفود بھی شریک ہو رہے ہیں، جو اس تشییعی مراسم کی بین الاقوامی اہمیت اور خطے و دنیا میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سیاسی مقام کی عکاسی کرتا ہے۔
آپ کا تبصرہ