اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام کی استقامت اور ثابت قدمی نے مخالفین کو جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ ہونے اور پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔
ایران کے سفیر رضا امیری مقدم سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران حافظ نعیم الرحمان نے خطے کی تازہ صورتحال، ایران اور پاکستان کے تعلقات اور عالمِ اسلام کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے ایرانی عوام کی ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ امریکہ کو جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنا پڑے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ ایران کی مزاحمت آج پوری مسلم اُمہ کے لیے باعثِ فخر ہے، جبکہ اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد ہونے والی پیش رفت نے عالمِ اسلام کا وقار بلند کیا ہے۔
انہوں نے اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دیں، اور خبردار کیا کہ مسلم ممالک کے درمیان اختلافات کو ہوا دینا مشترکہ دشمنوں کے مفادات کو تقویت دے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے غزہ اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کو مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے آزاد اور خودمختار ریاست کے حق کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
اس موقع پر ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے مشکل حالات میں ایران کے ساتھ پاکستانی عوام کی مستقل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ عالمِ اسلام کے اتحاد اور مشترکہ چیلنجز کے حل کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے۔
آپ کا تبصرہ