اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مقبوضہ فلسطین میں کیے گئے ایک تازہ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی عوام کا اسرائیلی حکومت اور کنیسٹ (پارلیمنٹ) پر اعتماد مسلسل کم ہو رہا ہے۔ سروے کے مطابق صرف 36 فیصد اسرائیلیوں نے کابینہ پر اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ 39 فیصد نے کہا کہ انہیں حکومت پر بالکل اعتماد نہیں۔
صہیونی اخبار معاریو کے مطابق، اسرائیلی مرکزی ادارۂ شماریات کی جانب سے کیے گئے اس سروے میں سیاسی، سکیورٹی اور عدالتی اداروں پر عوامی اعتماد کا جائزہ لیا گیا۔
سروے کے نتائج کے مطابق 52 فیصد اسرائیلی پولیس پر اعتماد کرتے ہیں، جبکہ 40 فیصد اس پر اعتماد نہیں رکھتے۔ اسی طرح 48 فیصد افراد نے اسرائیلی عدالتی نظام پر اعتماد کا اظہار کیا۔
سیاسی اداروں میں سب سے کم اعتماد اسرائیلی کابینہ اور کنیسٹ پر ریکارڈ کیا گیا۔ سروے کے مطابق صرف 33 فیصد اسرائیلیوں نے کنیسٹ پر اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ 60 فیصد نے اس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا، جو اب تک کی کم ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سروے میں مذہبی، نسلی اور سماجی گروہوں کے درمیان اعتماد کی سطح میں واضح فرق بھی سامنے آیا، جس سے اسرائیلی معاشرے میں مختلف اداروں کے بارے میں موجود اختلافات اور تقسیم کی عکاسی ہوتی ہے۔
دریں اثنا، صہیونی اخبار معاریو کے ایک حالیہ دوسرے سروے میں بتایا گیا کہ 63 فیصد اسرائیلیوں نے اسرائیلی حکومت کے مستقبل کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا، جبکہ 31 فیصد نے کہا کہ انہیں کوئی خاص تشویش نہیں اور 6 فیصد نے اس حوالے سے کوئی رائے نہیں دی۔
اس سروے کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی مخالف جماعتوں کے 78 فیصد حامی اسرائیلی حکومت کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں۔ دوسری جانب حکمران اتحاد کے حامیوں میں اگرچہ 51 فیصد نے کسی خاص تشویش کا اظہار نہیں کیا، تاہم 44 فیصد نے مستقبل کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔
آپ کا تبصرہ