بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی میڈیا کارکن، "ایتھان لیونس" (Ethan Levins) نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر اپنے اکاؤنٹ میں ایک پوسٹ شائع کرکے، واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات پر کھلے عام تنقید کی اور لکھا "اسرائیل نے ہمیں صرف جنگ، قرض اور غیر قانونی ایٹمی ہتھیار دیے ہیں جو دنیا کے لئے خطرہ بن رہے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں ایران نے ہمیں الجبرا (ریاضی)، کیمیا اور طب کا تحفہ دیا ہے۔
اس پیغام کو لاکھوں افراد نے دیکھا، اور مغربی تجزیہ کاروں کے درمیان مشرق وسطیٰ میں امریکی خارجہ پالیسی کی ترجیحات پر، وسیع پیمانے پر تنقید کا ایک وسیع رجحان ابھارا۔

ایک صارف نے مذکورہ بالا تصویر شائع کرتے ہوئے لکھا: فرق بالکل واضح ہے۔

"غیر قانونی ایٹمی ہتھیاروں" کی طرف اس امریکی صحافی کا اشارہ، ڈیمونا میں اسرائیل کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کی طرف ہے۔ صہیونی ریاست نے کئی دہائیوں سے "ایٹمی ابہام" کی پالیسی اپنا رکھی ہے، اس نے ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے معاہدے پر دستخط نہیں کئے ہیں، اور وہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو معائنے کی اجازت نہیں دیتی۔
دوسری طرف، امریکہ میں عوام کی ایک بڑی تعداد اور ناقدین اس بات پر احتجاج کررہے ہیں کہ امریکہ کی اندرونی معاشی بحرانی صورتحال میں، اسرائیل کو واشنگٹن کی اربوں ڈالر کی کی سالانہ مالی اور فوجی امداد، صرف اس ملک کے قومی قرضوں میں اضافہ کر رہی ہے اور خطے میں مزید جنگوں کی آگ بھڑکا رہی ہے۔
الجبرا کو براہ راست ممتاز ایرانی سائنسدان "محمد بن موسیٰ الخوارزمی"، سے منسوب کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی کتاب "الجبر و المقابلہ" کی تصنیف کی اور ساتھ دنیا میں علم الجبرا کے بانی کے طور پر پہچانے گئے اور لفظ الگورتھم بھی انہی کے نام سے ماخوذ ہے۔
کیمیا کے شعبے میں، "جابر بن حیان" اور "زکریا رازی" کے نام اثر انگیز شخصیات کے طور پر سامنے آتے ہیں؛ وہ لوگ جنہوں نے تجربہ گاہی طریقوں کو فروغ دے کر اور الکحل جیسی دریافتوں کے ساتھ، تجرباتی کیمیا کی بنیادیں تشکیل دیں۔
طب کی دنیا میں بھی "ابو علی سینا" نے اپنی کتاب "القانون فی الطب" کی تصنیف کرکے سائنس کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا؛ ایک ایسا کام جو صدیوں تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں طب کی تعلیم کے بنیادی حوالے کے طور پر پڑھایا جاتا رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ