24 جون 2026 - 16:24
صہیونی فوجیوں نے جنوبی قنیطرہ سے ایک شامی شہری کو اغوا کر لیا

جنوبی شام میں صہیونی رژیم کی فوجی سرگرمیوں میں اضافے کے دوران صہیونی فوجیوں نے صوبہ قنیطرہ کے جنوبی علاقے سے ایک شامی شہری کو اغوا کر لیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی فوجیوں نے بدھ کے روز قنیطرہ کے جنوبی نواحی علاقے سے ایک شامی شہری کو اغوا کر لیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب صہیونی فوجیوں نے جنوبی شام کے صوبوں قنیطرہ اور درعا کے مختلف علاقوں میں زمینی دراندازی کے دوران المعلّقہ گاؤں اور غدیر البستان قصبے کے درمیان سڑک پر عارضی فوجی چوکی قائم کر دی۔

روزنامہ العربی الجدید کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی فوجیوں کی ان سرگرمیوں کے دوران مقبوضہ شامی جولان کی سرحدی پٹی کے قریب تلاشی کی کارروائیاں، فوجی نقل و حرکت اور مختلف مقامات پر فوجیوں کی تعیناتی بھی دیکھی گئی۔

مقامی ذرائع نے العربی الجدید کو بتایا کہ چار فوجی گاڑیوں پر مشتمل صہیونی فوجی دستہ قنیطرہ کے جنوبی علاقے میں المعلّقہ گاؤں اور غدیر البستان قصبے کے درمیان پہنچا۔ فوجیوں نے وہاں عارضی چوکی قائم کرنے کے بعد گزرنے والی گاڑیوں اور شہریوں کو روک کر تلاشی لی۔

ذرائع کے مطابق، صہیونی فوجیوں نے اسی دوران وہاں سے گزرنے والے ایک شامی شہری کو اغوا کر لیا۔ اس شہری کی شناخت، اس کی موجودہ صورتحال یا اغوا کی وجہ کے بارے میں مزید معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔

سرحدی علاقوں میں صہیونی فوجیوں کی مزید دراندازیاں

ایک دوسرے واقعے میں تین فوجی گاڑیوں پر مشتمل صہیونی فوجی دستہ الرفید قصبے کے مغرب میں واقع الجلع گزرگاہ سے علاقے میں داخل ہوا اور مقبوضہ شامی جولان سے متصل لائن آف سیپریشن کے قریب الدرعیات فوجی چھاؤنی کے اطراف کی جانب بڑھا۔

یہ دستہ بعد میں عین التینہ چوک پہنچا، جہاں عارضی چوکی قائم کر کے گزرنے والے افراد کی تلاشی لی گئی۔ اس کے بعد صہیونی فوجی اسی راستے سے علاقے سے واپس چلے گئے۔

اسی دوران پانچ سے زائد فوجی گاڑیوں پر مشتمل صہیونی فوجیوں کا ایک اور دستہ قنیطرہ کے جنوبی نواح میں واقع المشیدہ گاؤں میں داخل ہوا۔ ابھی تک اس کارروائی کے دوران گھروں پر چھاپوں یا شہریوں کے اغوا کی کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی، تاہم مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ فوجی گاڑیاں گاؤں اور اس کے اطراف میں موجود رہیں۔

قنیطرہ اور جولان میں صہیونی کارروائیاں جاری

یہ واقعات اس کے ایک روز سے بھی کم وقت بعد پیش آئے جب چار فوجی گاڑیوں پر مشتمل صہیونی فوجی دستہ جنوبی قنیطرہ کے عین زیوان گاؤں میں داخل ہوا تھا۔ صہیونی فوجیوں نے ایک گھر کی تلاشی لی، جبکہ جاسوس ڈرون بھی علاقے کی فضائی نگرانی کرتے رہے۔

صہیونی فوج نے پیر کی شام اعلان کیا تھا کہ منگل کی صبح مقبوضہ جولان کی پہاڑیوں میں فوجی مشقیں کی جائیں گی۔ صہیونی فوج کے مطابق، ان مشقوں کے دوران فوجیوں اور فوجی سازوسامان کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت ہو گی اور علاقے میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دے سکتی ہیں۔

مغربی درعا میں بھی صہیونی فوجی پیش قدمی

مغربی درعا کے علاقے میں بھی صہیونی فوجیوں کا ایک دستہ پیر کی شام الجزیرہ فوجی چھاؤنی سے یرموک بیسن کے العارضہ علاقے کی طرف بڑھا اور وادی عابدین میں واقع تل المغر نامی مقام تک پہنچ گیا۔

صہیونی فوجی اس مقام پر تعینات ہو گئے اور علاقے میں زیتون کے درختوں کے درمیان پھیل گئے۔ اس کارروائی کے باعث مقامی آبادی میں تشویش اور خوف میں اضافہ ہوا۔

جنوبی شام میں صہیونی فوجی موجودگی پر تشویش

جنوبی شام کے علاقوں، بالخصوص درعا اور قنیطرہ کے نواحی علاقوں میں گزشتہ چند ماہ کے دوران صہیونی فوجیوں کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان علاقوں میں صہیونی فوجیوں کی زمینی دراندازیاں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ہو رہی ہیں۔

صہیونی فوجیوں کی ان کارروائیوں میں سرحدی دیہات اور قصبوں میں تلاشی، چھاپے اور شامی شہریوں کے اغوا کے واقعات بھی شامل ہیں، جس کے باعث جنوبی شام کے رہائشیوں میں صہیونی فوجی سرگرمیوں کے پھیلاؤ پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha