اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسٹارمر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ برطانوی بادشاہ چارلس سے مشاورت کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں، تاہم نئے لیبر رہنما کے انتخاب تک وہ عارضی طور پر اپنے منصب پر برقرار رہیں گے تاکہ اقتدار کی منتقلی منظم انداز میں مکمل ہو سکے۔
اعلان کے مطابق لیبر پارٹی کی قیادت کے لیے نامزدگیوں کا عمل 9 جولائی سے شروع ہوگا، جبکہ ستمبر میں پارلیمان کے دوبارہ اجلاس سے قبل نئی قیادت اور ممکنہ طور پر نئے وزیراعظم کا فیصلہ متوقع ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پیش رفت مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم کی حالیہ سیاسی کامیابی کے بعد سامنے آئی ہے، جنہیں پارٹی کے اندر ایک مضبوط متبادل رہنما کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ لیبر پارٹی کے کئی ارکان کا ماننا ہے کہ اسٹارمر کی مقبولیت میں نمایاں کمی کے بعد برنہم پارٹی کی سمت تبدیل کرنے کے لیے موزوں امیدوار ہیں۔
تاہم ممکنہ نئے وزیراعظم کو سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ برطانیہ اس وقت جی7 ممالک میں بلند ترین قرضوں کے بوجھ، مہنگے قرضوں کی شرح اور کمزور اقتصادی ترقی جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ برنہم تبدیلی کے حامی ہیں، لیکن ان کی معاشی اور خارجہ پالیسیوں کے واضح خدوخال ابھی سامنے نہیں آئے، جس پر آئندہ دنوں میں مزید توجہ دی جائے گی۔
آپ کا تبصرہ