اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کی پارلیمان میں حزبالله کے دھڑے کے رکن حسن فضلالله نے کہا ہے کہ مزاحمتی قوت کی اصل طاقت میدانِ جنگ میں اس کی موجودگی ہے اور اسی طاقت نے دشمن کو جنگ بندی پر مجبور کیا ہے، اس لیے حزبالله اپنے ہتھیار کبھی زمین پر نہیں رکھے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق حسن فضلالله نے لبنان کی بعض سیاسی جماعتوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں کا خون بہہ رہا ہے، بعض حلقے "ریاست کے پاس اسلحے کی اجارہ داری" جیسے نعرے دہرا رہے ہیں، جو زمینی حقائق سے انحراف کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ اسلحے کی اجارہ داری کی بات کرتے ہیں اگر واقعی ایسا کر سکتے ہیں تو کر کے دکھائیں، مگر مزاحمت کو ختم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ مزاحمت خود عوام کی نمائندگی کرتی ہے اور یہ کسی فرد یا جماعت کے اختیار میں نہیں ہے۔
حسن فضلالله نے حالیہ جھڑپوں اور جنوبی لبنان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنے فوجی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے عام شہریوں پر حملوں کے بارے میں غلط بیانی کرتا ہے، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ مزاحمتی جنگجوؤں نے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا ہے اور اسے اپنے اہداف حاصل کرنے سے روکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں مزاحمت کے پاس پیچھے ہٹنے کا کوئی آپشن نہیں ہے اور جب تک اسرائیلی جارحیت جاری رہے گی، مزاحمتی قوتیں اپنے دفاع اور بقا کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گی۔ ان کے مطابق جب تک یہ مزاحمت موجود ہے، فلسطینیوں اور لبنانیوں کی جبری بے دخلی یا مستقل بے گھری کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔
آپ کا تبصرہ