21 جون 2026 - 18:14
مآخذ: ابنا
بن گویر کی دوبارہ لبنان میں جنگ بندی مذاکرات کی مخالفت، اسرائیلی سیاسی اختلافات شدت اختیار کر گئے

اسرائیل کے وزیرِ قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے ایک بار پھر لبنان کے ساتھ جنگ بندی کے مذاکرات کی مخالفت کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ایسے کسی بھی مذاکرات کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کے وزیرِ قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے ایک بار پھر لبنان کے ساتھ جنگ بندی کے مذاکرات کی مخالفت کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ایسے کسی بھی مذاکرات کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

اسرائیلی فوجی ریڈیو کے مطابق بن گویر نے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک حزب اللہ لبنان کے سیاسی ڈھانچے کا حصہ ہے، اس وقت تک اس کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت یا مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔

اسرائیلی میڈیا میں بھی اس مسئلے پر اندرونی اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔ اخبار ہاآرتص کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ایک سنگین مخمصے کا شکار ہیں، جس میں انہیں یا تو جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی برقرار رکھنی پڑے گی اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کو خطرے میں ڈالنا ہوگا، یا پھر پسپائی اختیار کر کے ناکامی قبول کرنی ہوگی۔

اسی طرح اخبار معاریو کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اسرائیلی قیادت پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور بعض اوقات یہ دباؤ کھلے عام بھی نظر آ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سابق اور موجودہ اتحادی سیاستدانوں کے درمیان اختلافات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں، جس سے حکومت کے اندرونی معاملات مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی سیاسی اتحاد میں موجود اختلافات، خصوصاً دائیں بازو کی جماعتوں اور وزراء کے سخت موقف کی وجہ سے نیتن یاہو حکومت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ بعض وزراء کھلے عام جنگ بندی اور پسپائی کے خلاف مؤقف اختیار کر رہے ہیں، جس سے حکومتی پالیسی سازی مزید مشکل ہو گئی ہے۔

اسرائیلی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال نے نہ صرف داخلی سیاسی تقسیم کو واضح کر دیا ہے بلکہ علاقائی پالیسیوں پر بھی براہ راست اثر ڈالا ہے، خصوصاً لبنان اور حزب اللہ کے حوالے سے حکمت عملی پر۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha