21 جون 2026 - 16:19
مآخذ: ابنا
گجرات کے اسپتال میں مسلم مریض کو "دہشت گرد" کہنے کا الزام، سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل

بھارت کی ریاست گجرات کے شہر موداسا میں ایک نجی اسپتال کے خلاف امتیازی سلوک کے الزامات سامنے آئے ہیں، جہاں ایک مسلم نوجوان نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے علاج کے دوران توہین آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، بھارت کی ریاست گجرات کے شہر موداسا میں ایک نجی اسپتال کے خلاف امتیازی سلوک کے الزامات سامنے آئے ہیں، جہاں ایک مسلم نوجوان نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے علاج کے دوران توہین آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ڈاکٹر ونئے گاندھی اسپتال میں پیش آیا، جہاں مسلم مریض ستھار معین کے کاغذات تیار کیے جا رہے تھے۔ معین کا الزام ہے کہ میڈیکل اسٹور کے ایک ملازم نے ان کا نام دیکھتے ہی بلند آواز میں کہا، "دہشت گرد آ گئے ہیں۔"

متاثرہ نوجوان کے مطابق اس تبصرے نے انہیں شدید ذہنی اذیت اور شرمندگی کا احساس دلایا، جبکہ ایک معمول کا طبی معائنہ ان کے لیے امتیازی سلوک کا تجربہ بن گیا۔

معین نے بتایا کہ انہوں نے معاملے کی شکایت اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر ونئے گاندھی سے کی، تاہم ان کے بقول شکایت پر کارروائی کرنے کے بجائے اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ معین کا دعویٰ ہے کہ ڈاکٹر نے جواب دیتے ہوئے کہا: "جسے بلانا ہے بلا لو، میڈیا کو بھی بلا لو، مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔"

اس واقعے کے بعد مقامی سماجی کارکنوں اور شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحت کے مراکز ایسے مقامات ہونے چاہئیں جہاں ہر مریض کو بلا امتیاز عزت اور مساوی سلوک فراہم کیا جائے۔

معاملہ سوشل میڈیا پر بھی زیرِ بحث ہے، جہاں متعدد صارفین نے شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ کسی شخص کو صرف اس کے نام یا مذہبی شناخت کی بنیاد پر "دہشت گرد" قرار دینا نہ صرف توہین آمیز ہے بلکہ بنیادی انسانی اور آئینی اقدار کے بھی منافی ہے۔

سوشل میڈیا پر کئی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ حکام اس واقعے کی مکمل تحقیقات کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام مریضوں کے ساتھ مذہب، ذات یا شناخت سے بالاتر ہو کر عزت و احترام کا برتاؤ کیا جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha