بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اس سے پہلے مرکزی خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹر نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ کی بدعہدی اور جنوبی لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے پیش نظر آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمدورفت کے لئے بند کر دیا جائے گا۔
مرکزی خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹر کے بیان کا متن:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
"وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ ۙ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُونَ؛
اور وہ اگر اپنی قسموں کو اپنے عہدو پیمان کے بعد توڑ دیں اور تمہارے دین پر طعن و تشنیع کریں تو کفر کے ان سرغنوں سے جنگ کرو، یقیناً ان کی کوئی قسم معتبر نہیں، شاید یہ باز آ جائیں۔" (سورہ توبہ- آیت12)
جنگ کے خاتمے کے مفاہمت نامے کی پہلی شق پر عمل درآمد نہ کرنے میں امریکہ کی آشکار بدعہدی اور عہد شکنی کے پیش نظر، نیز جنوبی لبنان میں صہیونی ریاست کی طرف سے جنگ بندی کی مسلسل اور بلا ناغہ خلاف ورزیوں، اس سرزمین کے مظلوم عوام کے بے رحمانہ قتل عام اور لاکھوں افراد کو خطے سے نقل مکانی پر مجبور کرنے، اور جنوبی لبنان کی سرزمین سے قابض صہیونی افواج کے انخلاء میں ناکامی کے ردعمل میں، اعلان کیا جاتا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا جائے گا۔
واضح کیا جاتا ہے کہ یہ دشمن کی بدعہدی کے خلاف جوابی کارروائی کا پہلا قدم ہے اور اگر جارحیت جاری رہی تو دشمن کو اس کے وعدوں کی پاسداری پر مجبور کرنے کے لئے اگلے مراحل کی منصوبہ بندی کی جائے گا اور نئے منصوبے پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ