12 جون 2026 - 22:38
حصۂ دوئم | خطے میں اسٹارلنک کے شراکت دار، ایران کے حملوں کا جائزہدف

پینٹاگون کی سرکاری دستاویزات کے مطابق، امریکہ نے ایرانی سرزمین پر حملے میں اپنے ڈرونز کی رہنمائی کے لئے وسیع پیمانے پر اسٹارلنک نیٹ ورک استعمال کیا ہے۔ اس معاملے نے اسپیس ایکس اور خطے میں اس کے شراکت داروں کے مفادات کو ایران کے حملوں کے زیر غور اہداف کی فہرست میں لا کھڑا کیا ہے۔ / کویت کی الغانم انڈسٹریز Sama X کے نام سے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، ہندوستان، ترکی اور پاکستان میں اسٹارلنک کے مجاز عالمی نمائندے کے طور پر سرگرم ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ گذشتہ ہفتے رائٹرز نے پینٹاگون کے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا کہ اسٹارلنک نے ایران کی سرزمین پر امریکی جارحیت کے دوران امریکی فوج کے ساتھ وسیع پیمانے پر تعاون کیا ہے، اور سینٹ کام نے اپنے ڈرونز کی رہنمائی کے لئے اسٹارلنک ٹرمینلز استعمال کئے ہیں۔

حصۂ دوئم:

اورب سیٹ (Orbsat) - امارات:

اورب سیٹ-امارات نے اپنی ویب سائٹ پر اعلان کیا ہے کہ وہ "Starlink by Marlink" پر مبنی خدمات ـ بطور اسٹارلنک مجاز نمائندہ ـ فراہم کرتا ہے۔ اورب سیٹ کا براہ راست اسپیس ایکس کے ساتھ معاہدہ نہیں ہے، لیکن یہ مارلنک مارکیٹنگ کے چین میں ایک سیلز ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ مارلنک ایک بڑا بین الاقوامی آپریٹر ہے جو بحری سیٹلائٹ مواصلات میں شامل ہے، اور خود اسٹارلنک کے عالمی سطح پر باضابطہ مارکیٹنگ کے شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ یہ کمپنی اسٹارلنک کی خدمات کو اپنے برانڈ کے تحت پیکج کرتی ہے اور علاقائی نمائندوں (جیسے اورب سیٹ) کے نیٹ ورک کے ذریعے مختلف خطوں میں فراہم کرتی ہے۔

حصۂ دوئم | خطے میں اسٹارلنک کے شراکت دار، ایران کے حملوں کا جائزہدف

قطر ایئرویز (Qatar Airways) - قطر:

قطر ایئرویز خطے میں اسٹارلنک کے سب سے اہم سرکاری گاہکوں اور تجارتی شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ اس کمپنی کے بوئنگ 777 اور ایئربس اے350 کے بیڑے پر اسٹارلنک لگانے کا منصوبہ براہِ راست اسپیس ایکس کے ساتھ طے کیا گیا ہے۔ یہ تعاون مشرق وسطیٰ میں ہوابازی کے شعبے میں اسٹارلنک کے ساتھ بڑے معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔

خطے میں اسپیس ایکس کے حصص مالکان

سعودی عرب

سعودی سرمایہ کار شہزادہ الولید بن طلال، ـ جو سعودی وارین بفٹ (Saudi Warren Buffett) بھی کہلواتا ہے ـ  کنگڈم ہولڈنگ کے ذریعے اسپیس ایکس کے 0.63 فیصد حصص کا مالک ہے۔ اسپیس ایکس کی ابتدائی تشخیص کی بنیاد پر، اس کے حصص کی مالیت تقریباً 10.6 بلین ڈالر ہو سکتی ہے۔

حصۂ دوئم | خطے میں اسٹارلنک کے شراکت دار، ایران کے حملوں کا جائزہدف

سعودی سرکاری فنڈ - xAI کمپنی

نیز سعودی عرب کا پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) فی الحال اسپیس ایکس کے تقریباً 1 فیصد حصص کا مالک ہے۔ یہ مالکیت پچھلی پرائیویٹ فنانسنگ راؤنڈز میں شرکت کے حصول کے ذریعے حاصل کی گئی ہے۔ براہِ راست حصص کے علاوہ، PIF نے اپنے مصنوعی ذہانت کے بازو "ہیومن (Humain)" کمپنی کے ذریعے xAI میں 3 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔ xAI کے اسپیس ایکس کے ساتھ باضابطہ انضمام کے بعد، یہ حصص خودکار طور پر اسپیس ایکس کے حصص میں تبدیل ہو گئے، اور اس معاملے نے PIF کی اسپیس ایکس میں بالواسطہ ملکیت میں اضافہ کر دیا ہے۔

کویت

کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی (KIA)، ـ جو دنیا کا قدیم ترین قومی دولت فنڈ اور 1.072 ٹریلین ڈالر سے زائد اثاثوں کے ساتھ دنیا کا پانچواں بڑا فنڈ ہے، ـ نے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق 1 سے 5 ارب ڈالر مالیت کے حصص خریدنے کے لئے آرڈر درج کروایا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی تصدیق کی گئی ہے کہ اس خطے کے ادارے پہلے سے اسپیس ایکس (ایلون مسک کی راکٹ - میزائل، سیٹلائٹ اور مصنوعی ذہانت والی کمپنی) میں حصص رکھتے تھے اور 1.8 ٹریلین ڈالر کی ہدفی تشخیص کی بنیاد پر خاطر خواہ کاغذی منافع (paper-profit) منافع کمایا ہے۔

حصۂ دوئم | خطے میں اسٹارلنک کے شراکت دار، ایران کے حملوں کا جائزہدف

قطر اور امارات

قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی (QIA) جس کے تقریباً 600 بلین ڈالر کے اثاثے ہیں، نے جنوری 2026 میں ابوظہبی فنڈ MGX کے ساتھ مل کر xAI کے سیریز A فنانسنگ راؤنڈ میں 20 بلین ڈالر کی مالیت میں حصہ لیا تھا، جو فروری 2026 میں اس کے اسپیس ایکس کے ساتھ انضمام کے بعد اس سرمایہ کاری کو اسپیس ایکس کے حصص میں تبدیل کر دیا گیا۔

قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی نے 2022 سے ایلون مسک کے ماحولیاتی نظام میں بھی سرمایہ کاری کی تھی اور X پلیٹ فارم کی خریداری میں 375 ملین ڈالر کا حصہ ڈالا تھا۔

ابوظہبی فنڈ نے بھی xAI کے اسی فنانسنگ راؤنڈ کے ذریعے انضمام کے بعد اسپیس ایکس کے حصص حاصل کئے۔

حصۂ دوئم | خطے میں اسٹارلنک کے شراکت دار، ایران کے حملوں کا جائزہدف

اختتام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha