اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، البانیہ کے دارالحکومت تیرانا اور ساحلی علاقوں میں ہزاروں افراد مسلسل بارہویں روز بھی سڑکوں پر نکل آئے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور بیٹی ایوانکا ٹرمپ کے خلاف احتجاج کیا۔
مظاہرین ایک محفوظ ساحلی جزیرے میں مجوزہ سیاحتی منصوبے اور تعمیرات کی مخالفت کر رہے ہیں۔ احتجاج کرنے والے اپنے مطالبات کے اظہار کے لیے گلابی فلامینگو کو علامت کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے میں ہر قسم کی تعمیرات روکی جائیں۔
اس معاملے پر البانیہ کی پارلیمان میں بھی بحث ہوئی، جہاں ارکانِ پارلیمان نے وزیرِ ماحولیات کو طلب کر کے متنازع سیاحتی منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر سوالات اٹھائے۔
وزیرِ ماحولیات نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ قدرتی ماحول کے تحفظ کے فیصلے حقائق کی بنیاد پر ہونے چاہئیں اور انہیں سیاسی تنازعات کا حصہ نہیں بنانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت کے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے کی موجودہ قانونی درجہ بندی انسانی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد نہیں کرتی۔
دوسری جانب البانیہ کے وزیرِ اعظم ایڈی راما نے جیرڈ کشنر کے منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سرمایہ کاری ملک کو عالمی سیاحتی مرکز بنانے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک وہ اقتدار میں ہیں، اس منصوبے کو روکا نہیں جائے گا۔
حکومت کے اس مؤقف نے عوامی غصے میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ مظاہرین "البانیہ فروخت کے لیے نہیں" جیسے نعرے لگا رہے ہیں اور الزام عائد کر رہے ہیں کہ حکومت امریکی طاقتور حلقوں سے وابستہ سرمایہ کاروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے عوامی مفادات، ماحولیاتی تحفظ اور شہری حقوق کو نظرانداز کر رہی ہے۔
آپ کا تبصرہ