اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سلامتی کونسل کو تنازعات کی اصل وجوہات پر توجہ دینی ہوگی، جن میں فلسطینی، لبنانی اور شامی علاقوں پر جاری قبضہ، صہیونی حکومت کی مسلسل جارحانہ کارروائیاں اور خطے میں امریکہ کی طویل فوجی موجودگی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی بالادستی پر مبنی پالیسیوں نے کئی دہائیوں سے خطے میں عدم استحکام کو ہوا دی ہے۔ ان کے بقول، جب تک قبضہ اور جارحیت برقرار رہے گی، اس کے خلاف مزاحمت بھی جاری رہے گی اور کوئی سیاسی یا سفارتی عمل قبضے کو قانونی جواز فراہم نہیں کر سکتا۔
ایروانی نے کہا کہ حالیہ علاقائی حالات، بالخصوص ایران کے خلاف امریکہ کی بلااشتعال جنگ، ایک بار پھر ثابت کرتی ہے کہ خلیج فارس میں غیر ملکی فوجی موجودگی خطے کے لیے پائیدار سلامتی نہیں لا سکتی۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی امن اور استحکام صرف علاقائی ممالک کے درمیان مکالمے، تعاون، باہمی اعتماد، احترام اور حسنِ ہمسائیگی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ایرانی نمائندے نے واضح کیا کہ امریکہ اور صہیونی حکومت دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال کے ذریعے ایران پر اپنی شرائط مسلط نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی دھمکیوں اور دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کیے اور نہ ہی آئندہ ایسا کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور صہیونی حکومت نے آٹھ اپریل کی جنگ بندی کی متعدد بار خلاف ورزی کی، جبکہ ایران نے اپنے دفاع کے جائز اور قانونی حق کا استعمال کیا ہے۔
ایروانی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور عوام کے دفاع کے لیے پرعزم ہے، جبکہ امریکہ اور صہیونی حکومت اپنے غیر قانونی اقدامات کے تمام نتائج کی ذمہ دار ہیں۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ امریکی صدر کو بار بار کی دھمکیوں کا سلسلہ بند کرنا چاہیے، کیونکہ ایران نہ ماضی میں کسی دباؤ کے سامنے جھکا ہے اور نہ مستقبل میں جھکے گا۔
آپ کا تبصرہ