اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، رجب طیب اردوغان نے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ کی قومی سلامتی کا دائرہ صرف اس کی سرکاری سرحدوں تک محدود نہیں۔ ان کے بقول، ترکیہ کی سلامتی کا آغاز صرف صوبہ ہاتائے سے نہیں ہوتا بلکہ اس کا براہِ راست تعلق حلب، دمشق اور بیروت کے حالات سے بھی ہے۔
اردوغان نے شام اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کو ان دونوں ممالک کی سرحدوں سے بڑھ کر پورے خطے کے لیے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اب اس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اس کے اثرات براہِ راست ترکیہ کی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
ترک صدر نے لبنان اور شام میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات خطے میں عدم استحکام کو بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس بحران کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
اردوغان نے کہا کہ ترکیہ ان منصوبوں اور اہداف سے بخوبی آگاہ ہے جنہیں وہ "اسرائیل کے حتمی مقاصد" قرار دیتے ہیں، اور انقرہ ہرگز ان کی تکمیل کی اجازت نہیں دے گا۔
ترک صدر نے اسرائیلی اقدامات کو روکنے کو عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیتے ہوئے بحران کی شدت میں اضافے کو روکنے کے لیے اجتماعی ردعمل کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ترکیہ میں آئندہ نیٹو سربراہی اجلاس کی میزبانی کی تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔ اردوغان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس اجلاس میں شرکت اتحاد کے اندر یکجہتی کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے خبردار کیا کہ ترکیہ یا قبرصی ترکوں کے حقوق کے خلاف کسی بھی اقدام کا سخت اور دوٹوک جواب دیا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ