اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور لبنان میں جاری تنازع نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کی حیثیت اور اثر و رسوخ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا جس کے بعد امریکی صدر نے محتاط رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو جواب دینا ہو گا تاہم ان کے بیانات میں ماضی جیسی سختی دکھائی نہیں دی۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی نئی قیادت نے سابق پالیسی ’اسٹریٹجک صبر‘ ترک کرتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے۔
ایران نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کے جواب میں میزائل کارروائی کی جبکہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے امریکی دباؤ کے باوجود حملے جاری رکھے۔
امریکی صدر متعدد بار نیتن یاہو سے تحمل کا مطالبہ کرتے رہے لیکن اسرائیل نے لبنان اور ایران میں کارروائیاں جاری رکھیں۔
بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتِ حال امریکا کی محدود ہوتی طاقت اور اسرائیل پر اس کے کم ہوتے اثر کی نشاندہی کرتی ہے۔
تجزیے میں مبصرین کا کہنا ہے امریکا اسرائیل کو سالانہ 3.8 ارب ڈالرز کی امداد دیتا ہے جبکہ 2023ء کے بعد اسرائیل کو امریکا کی جانب سے اضافی 10.6 ارب ڈالرز کی فوجی امداد بھی فراہم کی گئی، اس کے باوجود واشنگٹن اسرائیلی پالیسیوں کو تبدیل کروانے میں ناکام نظر آ رہا ہے۔
ادھر امریکی عوام میں بھی اسرائیل کے لیے حمایت کم ہو رہی ہے۔
پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق اپریل میں 60 فیصد امریکیوں نے اسرائیل کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کیا ہے جو 2 سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زیادہ ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کی ایران جنگ میں شمولیت، یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے، مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی حمایت اور غزہ جنگ میں نیتن یاہو کی پشت پناہی نے امریکا کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
عرب بیرومیٹر کے سروے کے مطابق 2025ء کی 12 روزہ جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے عوام کا امریکی قیادت والے علاقائی نظام پر اعتماد تقریباً ختم ہو چکا ہے جبکہ چین، ایران اور روس کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ مثبت نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
بھارتی تجزیاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران جنگ نے امریکا کی فوجی حدود کو بے نقاب کر دیا جبکہ روس کو توانائی کی بلند قیمتوں اور چین کو خطے میں بڑھتے مواقع سے فائدہ پہنچا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کی کمزوری ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سب سے بڑا سفارتی چیلنج بن چکی ہے۔
آپ کا تبصرہ