1 جون 2026 - 18:02
نیویارک ٹائمز: واشنگٹن–تہران مذاکرات میں پیچیدگی، ایران یورینیم ذخائر پر مؤقف پر قائم

امریکی صدر کی جانب سے مسودہ معاہدے میں سخت ترامیم کے مطالبے اور ایران کے اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے کے باعث مذاکرات ایک غیر یقینی مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، نیویارک ٹائمز اور دیگر امریکی ذرائع کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے مسودہ معاہدے میں تبدیلیوں کے مطالبے کے بعد مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ پر داخلی سیاسی دباؤ اور اسرائیل کی جانب سے تحفظات کے بعد یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ معاہدے کے بعض نکات کو مزید سخت بنایا جائے، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم کے ذخائر کے حوالے سے۔

ذرائع کے مطابق امریکی فریق کا مؤقف ہے کہ مجوزہ معاہدہ موجودہ شکل میں ایران کو زیادہ رعایتیں دیتا ہے، جن میں منجمد اثاثوں کی جزوی بحالی اور بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی شامل ہو سکتی ہے۔ اسی بنا پر مذاکراتی عمل کو مزید سخت اور واضح شرائط سے مشروط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اختلاف کا مرکزی نکتہ ایران کے پاس موجود 60 فیصد افزودہ یورینیم کے 400 کلوگرام سے زائد ذخائر ہیں، جن کے بارے میں بعض مغربی اندازوں میں کہا گیا ہے کہ اگر اسے 90 فیصد تک افزودہ کیا جائے تو یہ متعدد جوہری ہتھیاروں کے لیے مواد فراہم کر سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے اور موجودہ سطح پر افزودگی امریکہ کی جانب سے معاہدے سے علیحدگی اور پابندیوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ تہران فوری طور پر اپنے افزودہ مواد کی بیرون ملک منتقلی کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے اندر اعلیٰ سطحی قیادت کی جانب سے یہ مؤقف دہرایا گیا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں ملک کے بنیادی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کوئی فریق کو “اندھا اعتماد” دیا جائے گا۔

ایرانی حکام کے مطابق امریکہ کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں مختلف قیاس آرائیاں سامنے آ رہی ہیں اور معاہدے کے مستقبل پر غیر یقینی کیفیت برقرار ہے۔ بعض تجزیوں میں مذاکرات کے ناکام ہونے اور کشیدگی کے دوبارہ بڑھنے کے امکانات کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا رہا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha