31 مئی 2026 - 17:15
جرمن سیاست دان: اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کی زندگی جہنم بنا دی

جرمنی کے سابق رکنِ پارلیمان یورگن ٹوڈن ہوفر نے صہیونی رژیم پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں فلسطینیوں کی زندگی ناقابلِ برداشت بنا دی گئی ہے اور منظم دباؤ کے ذریعے ان کی زمینوں پر قبضے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یورگن ٹوڈن ہوفر نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم X پر اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل غزہ کے باشندوں کو ساحلی پٹی کے صرف 30 فیصد حصے میں محدود کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جہاں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہوگی، جبکہ باقی 70 فیصد علاقے کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی کنارہ میں صہیونی آبادکار روزانہ فلسطینی کسانوں اور شہریوں پر حملے کر رہے ہیں۔ ان کے بقول اس وقت اسرائیل مغربی کنارے کے تقریباً 60 فیصد علاقے پر قابض ہے اور آبادکاروں کی کارروائیوں نے فلسطینیوں کی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے۔

ٹوڈن ہوفر نے مزید کہا کہ مشرقی بیت المقدس میں بھی فلسطینی خاندان مسلسل آبادکاروں کے حملوں کا سامنا کر رہے ہیں اور انہیں اپنے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

فلسطینی سرزمین کے الحاق کی کوشش

جرمن سیاست دان کے مطابق آبادکاروں کی یہ منظم کارروائیاں دراصل فلسطینیوں کو ان کی سرزمین چھوڑنے پر مجبور کرنے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

انہوں نے اسرائیلی حکومت کے انتہا پسند وزراء ایتامار بن گویر اور بتسلئیل اسموتریچ کا نام لیتے ہوئے کہا کہ یہ رہنما غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس سے فلسطینیوں کے انخلا کے حامی ہیں۔

یورپی خاموشی پر بھی تنقید

یورگن ٹوڈن ہوفر نے الزام عائد کیا کہ صہیونی فوج انتہا پسند آبادکاروں کی کارروائیوں کو روکنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، جبکہ یورپی یونین اور جرمن حکومت بھی صورتحال پر مؤثر ردعمل دینے میں ناکام رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد، فلسطینی دیہات پر حملوں، گھروں اور املاک کی تباہی، زرعی زمینوں کو نذرِ آتش کرنے اور فلسطینی کسانوں کو اپنی زمینوں تک رسائی سے روکنے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ متعدد بار مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صہیونی بستیوں کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے، تاہم صہیونی رژیم نے اب تک ان قراردادوں پر عمل درآمد نہیں کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha