اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کے سابق وزیر مصطفیٰ بیرم نے کہا ہے کہ سن 2000 میں جنوبی لبنان کی آزادی کے بعد سے مزاحمت نے ہمیشہ ریاستی اداروں کے کردار کا احترام کیا ہے اور کبھی خود کو ریاست کا متبادل قرار نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ مزاحمت نے ہمیشہ داخلی امن، قومی یکجہتی اور ریاستی اداروں کے استحکام کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا ہے۔
مصطفیٰ بیرم نے اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے لبنانی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بعض حکومتی پالیسیوں کے باعث لبنان کے حقوق اور خودمختاری کا مؤثر انداز میں دفاع نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ مزاحمت سے وابستہ تعلیمی، سماجی اور امدادی اداروں کو نشانہ بنانے اور ان پر دباؤ ڈالنے کا مقصد عوامی سطح پر مزاحمت کی حمایت کو کمزور کرنا ہے، تاہم ان اقدامات کے باوجود مزاحمت داخلی انتشار یا خانہ جنگی کا راستہ اختیار نہیں کرے گی۔
سابق لبنانی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مزاحمت یا اس کے حامیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ لبنانی فوج اپنے قومی کردار کو برقرار رکھتے ہوئے ملک کے اتحاد، استحکام اور سلامتی کے تحفظ میں اپنا مؤثر کردار ادا کرتی رہے گی۔
آپ کا تبصرہ