اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کی سپریم شیعہ کونسل کے نائب صدر شیخ علی الخطیب نے جنوبی لبنان کی آزادی کی چھبیسویں سالگرہ کے موقع پر کہا ہے کہ یہ دن ایسے وقت میں آیا ہے جب لبنان مسلسل صہیونی جارحیت کے باعث انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔
شہداء اور سید حسن نصر اللہ کی یاد کو خراجِ عقیدت
شیخ علی الخطیب نے مجاہد اور بہادر شہداء خصوصاً سید حسن نصر اللہ کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس بابرکت موقع پر ہم اسرائیلی جارحیت اور صہیونی قبضے کے مقابلے میں اپنے قومی مؤقف کی تجدید کرتے ہیں، کیونکہ لبنان میں کوئی بھی شخص اس تباہی اور خطرات پر خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ لبنان کی حکومت، خصوصاً فوج، اور مزاحمتی قوتوں کے درمیان فوری اور مکمل ہم آہنگی ہونی چاہیے تاکہ جنگ اور امن سے متعلق ہر فیصلہ ایک متحدہ قومی و خودمختار فیصلے کی صورت اختیار کرے، نہ کہ حکومت بیرونی ایجنڈوں کے تحت مزاحمت کے خلاف اقدامات کرے۔
صہیونی رژیم سے براہِ راست مذاکرات کی مخالفت
شیخ علی الخطیب نے زور دے کر کہا کہ ہم کسی بھی عنوان کے تحت صہیونی رژیم کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کو کوئی قانونی یا سیاسی حیثیت نہیں دیتے۔ البتہ غیر جانب دار بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات قابلِ قبول ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کا بنیادی مقصد مکمل اور غیر مشروط جنگ بندی، لبنان کی مقبوضہ اراضی سے صہیونی افواج کا مکمل انخلا، بے گھر شہریوں کی واپسی، اسیران کی آزادی اور تعمیرِ نو کے عمل کا آغاز ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمت کے اسلحے کا معاملہ صرف اندرونی لبنانی مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہیے، جہاں لبنانی عوام آئین اور ملکی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک قومی دفاعی حکمتِ عملی طے کریں جو لبنان کا تحفظ کرے اور جارحیت کے مقابلے میں مزاحمت کے حق کو برقرار رکھے۔
لبنان کی سپریم شیعہ کونسل کے نائب صدر نے واضح کیا کہ مزاحمت کا اسلحہ جارحیت کا جواز نہیں بلکہ قبضے اور مسلسل خطرات کا ردِعمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کا مؤقف ہمیشہ جارحیت، تعلقات کی معمول سازی اور امریکی بالادستی کی مخالفت پر قائم رہنا چاہیے۔
آپ کا تبصرہ