23 مئی 2026 - 13:16
مآخذ: ابنا
ٹرمپ حکومت کی متنازع انٹیلیجنس سربراہ کے استعفے کی اندرونی کہانی

ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں قومی انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر کے استعفے کو صرف ذاتی فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ اس کے پیچھے کئی مہینوں سے جاری شدید اختلافات کارفرما تھے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں قومی انٹیلیجنس کی ڈائریکٹر کے استعفے کو صرف ذاتی فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ اس کے پیچھے کئی مہینوں سے جاری شدید اختلافات کارفرما تھے۔

 تولسی گبارڈ نے 22 مئی کو اپنے استعفے کا اعلان کیا اور کہا کہ ان کے شوہر کو ہڈیوں کے کینسر کی ایک نایاب قسم لاحق ہے، اسی وجہ سے وہ 30 جون کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گی۔

تاہم امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ مکمل طور پر ذاتی نہیں تھا، بلکہ وائٹ ہاؤس کے اندر پالیسی اختلافات نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق، گبارڈ نے کئی بار کہا تھا کہ ایران فوری جوہری خطرہ نہیں ہے اور اس کا افزودگی پروگرام امریکی حملوں کے بعد “ختم” ہو چکا ہے۔ مگر ٹرمپ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا: “مجھے ان کی رائے کی پرواہ نہیں ہے۔”

سی این این کی رپورٹ کے مطابق، گبارڈ حالیہ مہینوں میں جنگ مخالف مؤقف کی وجہ سے حکومتی لائن سے دور ہو گئی تھیں، جس پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

این بی سی نیوز کے مطابق، ایران اور اسرائیل سے متعلق اہم فیصلوں میں انہیں عملاً نظرانداز کیا گیا، جبکہ ٹرمپ کے قریبی حلقوں میں جنگ کے حامی اور مخالف دھڑوں کے درمیان اختلافات بڑھتے گئے۔

گارجین کے مطابق، ٹرمپ نے اپریل 2026 میں ہی ان کی جگہ کسی اور کو لانے پر غور شروع کر دیا تھا، اور ان کے بعض بیانات نے بھی ان کی پوزیشن مزید کمزور کر دی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ استعفیٰ اس بات کی علامت ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ میں اختلافی آوازوں کی گنجائش محدود ہوتی جا رہی ہے، خاص طور پر ایران پالیسی کے حوالے سے۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں “بہترین” قرار دیا، تاہم ذرائع کے مطابق ان کا اثر و رسوخ پہلے ہی کم ہو چکا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ٹرمپ کی پالیسی بیانیے اور عملی اقدامات کے درمیان بڑھتے ہوئے تضاد کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha