اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹکے مطابق،اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ چند روز میں ایران کے حوالے سے اہم فیصلہ کر سکتے ہیں، جبکہ اسرائیل نے ممکنہ صورتحال کے پیش نظر اپنی فوج کو ہائی الرٹ پر رکھا ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی اداروں کا خیال ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ اسی تناظر میں اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر مسلسل امریکی سینٹکام کے کمانڈر بریڈ کوپر سے رابطے میں ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب کو خدشہ ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف کوئی فوجی اقدام کیا تو ایران کی جانب سے ردعمل میں اسرائیل کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے، اسی لیے فوجی تیاریاں اور حفاظتی اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام عوام کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کسی بھی ممکنہ امریکی کارروائی سے قبل تل ابیب کو آگاہ کر دیا جائے گا تاکہ ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔
اس سے قبل اسرائیلی حکام یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ ٹرمپ مکمل جنگ کے حق میں نہیں ہیں اور اسرائیل کی جانب سے امریکہ کو جنگ پر آمادہ کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔
دوسری جانب رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین سمیت کئی عالمی طاقتیں امریکہ پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ وہ ایران کے خلاف نئی فوجی مہم سے گریز کرے اور مذاکرات کو ترجیح دے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق تل ابیب کسی ایسے معاہدے کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیتوں کو مرکزی حیثیت نہ دی جائے۔
آپ کا تبصرہ