اہل بیت نیوز ایجسنی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ قومی مفاد کی بنیاد پر عقلمندانہ اور منطقی راستہ یہ ہے کہ مسلح افواج کی میدانِ جنگ میں حاصل کردہ کامیابی کو سفارتی محاذ پر بھی مکمل کیا جائے۔
صدر پزشکیان نے ایرانی پولیس فورس (فراجا) کے اعلیٰ کمانڈروں کے ساتھ ایک اجلاس میں حالیہ جنگ کے دوران داخلی سلامتی برقرار رکھنے میں اس ادارے کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔
انہوں نے فراجا کی قربانیوں اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود اس فورس نے ملک کے اندرونی امن و امان کے قیام میں مؤثر، طاقتور اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔
صدر نے کہا کہ حکومت فراجا کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے، جدید آلات کی فراہمی، نقصان زدہ مراکز کی بحالی اور آپریشنل صلاحیت بڑھانے کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گی۔
پزشکیان نے زور دیا کہ داخلی سلامتی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے عوامی شرکت ضروری ہے۔ ان کے مطابق “محلہ بنیاد حکمرانی” کے ماڈل میں فراجا اہم کردار ادا کر سکتی ہے تاکہ عوام کو براہِ راست امن و امان کے عمل میں شریک کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اگر شہریوں میں سماجی ذمہ داری کا احساس پیدا ہو تو جرائم اور سماجی مسائل میں واضح کمی لائی جا سکتی ہے۔
صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جرائم کی روک تھام کے لیے پیشگی اقدامات کو محض ردِعمل پر مبنی کارروائیوں پر ترجیح دی جانی چاہیے۔
پزشکیان نے اپنے خطاب میں حالیہ جنگی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران ایک “پیچیدہ، سخت اور غیر متوازن جنگ” کا سامنا کر رہا تھا، لیکن ایرانی عوام اور مسلح افواج نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام بنا دیا۔انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنی طاقت اور استقامت سے دشمن کو جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور کیا۔
آپ کا تبصرہ