اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اس سال عالمی سطح پر لبیک یا حسین (ع) کے موسم کے مناظر گذشتہ سالوں کی نسبت کچھ زیادہ ہی انوکھے تھے۔ ہر سال کروڑ ڈیڑھ کروڑ مسلمان اربعین امام حسین (ع) کے موقع پر کربلائے معلی کی طرف رخت سفر باندھتے ہیں جن میں کئی لاکھ بیرون ملک سے بھی آتے ہیں۔ اس سال بھی یہی صورت حال تھی اور کربلا کی طرف جانے والوں کی تعداد ایک کروڑ ستر لاکھ تھی جن میں ساڑھے چھ لاکھ افراد 170 ممالک سے اکٹھے ہوکر آئے تھے۔ کئی راستے میں حملوں کا نشانہ بنے جن میں پاکستان سے آنے والے زائرین بھی شامل ہیں جن کی بسوں کو بيچ راستے سیدالشہداء علیہ السلام کے مکتب کے دشمنوں نے بم کا نشانہ بنایا اور متعدد شہید اور زخمی ہوئے جو کربلا نہ پہنچ سکے۔ کربلا کی طرف جانے والوں میں ہزاروں افراد کا تعلق اہل سنت کے چاروں مذاہب سے تھا جبکہ اس سال مصوروں کو ایک عیسائی مذہبی راہنما کی تصویریں بھی لینے کا موقع میسر آیا جن کا نام "جوزف الیاس" بتایا گیا۔ وہ ایک عراقی عیسائی مذہبی راہنما ہیں جو پائے پیادہ سیدالشہداء علیہ السلام کی زیارت کے لئے کربلا کی طرف جاتے ہوئے دیکھے گئے۔جوزف الیاس جو نئے عیسوی سال کے مراسمات منانے کے لئے اپنے شہر و دیار میں رکنے کے بجائے محسن انسانیت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے کربلا جارہے تھے نے گذشتہ بدھ (2جنوری 2013) کو بعض نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: "امام حسین علیہ السلام کو حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح اپنی امت پر قربان کردیا" [ظاہر ہے کہ یہ ایک مسیحی پادری کے الفاظ ہیں ورنہ امام حسین علیہ السلام نے اپنے جدامجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی امت کی اصلاح کے لئے قربانی دی جس کی مثال رہتی دنیا تک ملنا محال ہے اور امت فقط انبیاء علیہم السلام کی ہوتی ہے]۔انھوں نے کہا: اربعین کی زیارت ایک انسانی کارنیول ہے اور میں یہاں اپنے مسلمان برادران کے اس عظیم اجتماع میں شرکت کروں اور دنیا والوں کو بتا دوں کہ عراقی امام حسین علیہ السلام کے خیمے کے سائے میں متحد ہوسکتے ہیں۔

اس عیسائی راہب و پادری مذہبی راہنما نے کہا: میں دنیا والوں کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ عراق کے عیسائی حسین بن علی علیہ السلام کی مصیبت میں عزادار ہیں۔واضح رہے کہ عراق کے عیسائی اور صابئی ہر سال اپنے شیعہ اور سنی ہم وطنوں کے ہمراہ امام حسین علیہ السلام کے ایام عزا کی تکریم میں شرکت کرتے ہیں اور ان میں سے کئی امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے کربلا کا سفر اختیار کرتے ہیں۔......./110