بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ پالانٹیر ٹیکنالوجیز (Palantir Technologies) کو 2003 میں پیٹر تھیل اور ایلکس کارپ (Peter Thiel اور Alex Karp) نے قائم کیا، جو اسرائیل کے کٹر اور متعصب حامیوں کے طور پر بدنام ہیں اور "ایف ڈی ڈی" (Foundation for Defense of Democracies [FDD]) کے بانی تصور کئے جاتے ہیں، نیز سی آئی اے کی سرمایہ کاری شاخ In-Q-Tel کی شراکت کے ساتھ۔ اس کمپنی کا ابتدائی مقصد سیکیورٹی بگ ڈیٹا کے انضمام اور تجزیئے کے لئے نظام تیار کرنا تھا؛ ایسا ڈیٹا جو انٹیلی جنس، مالیاتی، فوجی اور انٹیلی جنس اداروں جیسے مختلف ذرائع سے اکٹھا کیا جاتا ہے۔ گوگل یا میٹا جیسی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے برعکس، پالانٹیر نے شروع ہی سے براہ راست حکومتوں، فوجوں اور انٹیلی جنس اداروں بشمول سی آئی اے اور صہیونی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ اپنا تعاون شروع کیا۔
اس کمپنی کا وجودی فلسفہ، ڈیٹا کو "فیصلہ سازی پر منتج ہونے والی آپریشنل تصویر" میں تبدیل کرنے پر مبنی ہے؛ اس طرح کہ فوجی کمانڈر بہت کم وقت میں معلومات کے بے پناہ حجم سے آپریشنل فیصلے تک پہنچ سکیں۔ "پالانٹیر" کا نام بھی لارڈ آف دی رنگز کی دنیا سے لیا گیا ہے؛ وہ گیندیں جو دور دراز کے واقعات کو دیکھنے کی سہولت فراہم کرتی تھیں، اور اس کمپنی میں "ڈیٹا کے ذریعے سب کچھ دیکھنے" کے نظریئے کو بخوبی ظاہر کرتی ہیں۔
ڈھانچہ: بڑے عالمی سرمایہ کار
پالانٹیر کی شیئر ہولڈنگ کا ڈھانچہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ کمپنی دنیا کے بڑے مالیاتی اداروں کے نیٹ ورک کے مرکز میں واقع ہے:
• وینگارڈ گروپ کمپنی Vanguard Group، تقریباً 9 فیصد حصص کے ساتھ
• بلیک راک BlackRock کمپنی، تقریباً 6.5 سے 8 فیصد حصص کے ساتھ
• اسٹیٹ اسٹریٹ کارپوریشن State Street Corporation، تقریباً 4.5 فیصد حصص کے ساتھ
• گیوڈ کیپیٹل مینجمنٹ Geode Capital Management، تقریباً 2.3 فیصد حصص کے ساتھ
یہ کمپنیاں انڈیکس فنڈز اور ETFs کے ذریعے ٹیکنالوجی، دفاع اور سائبر سیکیورٹی سمیت صنعتوں کی وسیع رینج میں سرمایہ کاری کرتی ہیں۔
ان کے ساتھ ساتھ، بڑے بینک اور مالیاتی ادارے بھی تکمیلی کردار ادا کرتے ہیں جیسے:
• جے پی مورگن چیس JPMorgan Chase
• مورگن اسٹینلی Morgan Stanley
• یو بی ایس UBS
یہ بینک ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے علاوہ، اسرائیل کے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کی مالی اعانت اور اس کے سرکاری بانڈز جاری کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اسرائیل کے ساتھ ہم آہنگی: سرمائے سے فوجی مصنوعی ذہانت تک
اگرچہ پالانٹیر ایک امریکی کمپنی ہے، لیکن اس کا اسرائیل کے ساتھ تعاون حالیہ برسوں میں اسٹرٹیجک سطح پر پہنچ گیا ہے۔ جنوری 2024 میں، اسرائیل کی وزارت جنگ اور پالانٹیر نے جنگی ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تعاون کے لئے باقاعدہ معاہدے پر دستخط کئے۔ یہ تعاون 2023 کی غزہ جنگ اور کمپنی کے سینئر منیجرز کے تل ابیب کے دورے کے بعد وسعت اور شدت اختیار کر گیا۔
اس فریم ورک کے تحت، اسرائیل پالانٹیر کی ٹیکنالوجیز کو میدان جنگ کے ڈیٹا کے تجزیئے، ڈرون کی معلومات کی پروسیسنگ، اور انٹیلی جنس ذرائع کے انضمام کے لئے استعمال کرتا ہے اور انہیں اسرائیلی فوج کو فراہم کرتا ہے۔ یہ تعاون فوجی فیصلہ سازی کے مرکز میں مصنوعی ذہانت کے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: قبس زعفرانی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ